اسلام آباد ،10اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان میں وزیرِاعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا خود استعفیٰ دینے کی صورت میں ملک کا نیا وزیرِاعظم یعنی قومی اسمبلی میں قائد ایوان کا انتخاب کیسے ہوتا ہے اس کا طریقہ آئین اور قانون میں واضح ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی کے 342 ارکان کے ایوان میں وزیراعظم کو منتخب ہونے کے لیے 172 ارکان کا اعتماد حاصل ہونا ضروری ہے۔
قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کا انتخاب اسپیکر کی جانب سے کرایا جاتا ہے۔ اور یہ انتخاب اسی طرح ہوتا ہے جیسے عام انتخابات کے بعد نئے وزیراعظم کو منتخب کیا جاتا ہے۔آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت قائد ایوان کو قومی اسمبلی میں موجود مجموعی اراکین کی تعداد کی اکثریت کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔
لیکن اگر کوئی امیدوار وزیراعظم کے انتخاب کے دوران واضح اکثریت حاصل نہ کرسکے تو رائے شماری میں سب سے زیادہ ووٹ لینے و الے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ کرایا جاتا ہے، جس میں 172 ارکان کا ووٹ حاصل کرنے والا ایوان کا قائد بن جاتا ہے۔
قومی اسمبلی کے قواعد کے مطابق وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں اسپیکر پابند ہے کہ وہ صدرِمملکت کو آگاہ کرے اور سیکریٹری اسمبلی گزٹ میں اس کو شائع کرائے ، جس کے بعد نئے قائد ایوان کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔
نئے قائد ایوان کے لیے قومی اسمبلی کے قواعد 32 سے 36 تک رہنمائی دی گئی ہے۔ان قواعد میں لکھا گیا ہے کہ وزیرِاعظم کے لیے مسلمان ہونا لازمی شرط ہے۔ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جاتے ہیں جس کی جانچ پڑتال اسپیکر قومی اسمبلی کرتا ہے۔
اسپیکر کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے والے امیدواروں کے کاغذات مسترد کردے۔ مگر اس کے لیے اسپیکر کو وجہ بتانا ضروری ہوتا ہے۔ کاغذاتِ نامزدگی حتمی طور پر منظور ہونے کے بعد وزیرِاعظم کے انتخاب کا عمل اوپن ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے۔
ووٹنگ شروع ہونے سے قبل اسپیکر امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرتا ہے۔ اگر دو یا دو سے زائد امیدوار ہیں تو ان کے انتخاب کے لیے اسپیکر ارکانِ اسمبلی کو الگ الگ لابیوں میں جانے کی ہدایت کرتا ہے۔جس کے بعد ارکان اس متعلقہ لابیز میں چلے جاتے ہیں جہاں قومی اسمبلی میں موجود عملہ لسٹ میں ارکان کے ناموں کے آگے نشان لگاتا ہے، بعد ازاں ایوان میں گنتی کی جاتی ہے۔
اگر وزیراعظم کے لیے ایک ہی امیدوار ہو تو اسپیکر بلامقابلہ اس کی کامیابی کا اعلان کرتا ہے جس کے بعد اسپیکر جیتنے والے امیدوار کو اعتماد کا ووٹ لینے کاکہتا ہے۔مبصرین سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور نئی حکومت کے قیام کی صورت میں معاملات کے ایک پٹری پر چڑھنے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔
خیال رہے کہ وزیراعظم کے خلاف اپوزیشن کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر تین اپریل کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دے کر اسے مسترد کردیا تھا، جس کے بعد صدر نے وزیراعظم کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کردی تھی۔
اس معاملے پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھااور اسپیکر کی رولنگ کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔ عدالت نے اسمبلیاں بحال کرکے عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کا حکم دیاتھا۔
پاکستان:قومی اسمبلی میں تحریک عدمِ ِاعتماد کامیاب، عمران خان وزیراعظم نہیں رہے
اسلام آباد ،10اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پاکستان میں تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی ہے اور وزیراعظم عمران خان کو ان کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس میں 174 ارکان اسمبلی نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف ووٹ دیکر ان پر عدم اعتماد کردیا ہے۔
عمران خان کی سیاسی بقا اسمبلی میں بطور اپوزیشن لیڈر کردار ادا کرنے میں ہے: مبصرین
اسلام آ باد ،10اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ اعتماد پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کے اجلاس کے لیے ہفتے کا دن مقرر کیا گیا ہے۔حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے ارکانِ قومی اسمبلی کے نمبرز پورے ہیں۔اجلاس سے قبل حکومت کے وزرا کا کہنا تھا کہ تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں وہ حزبِ اختلاف میں جانے کے لیے تیار ہیں۔
اس صورتِ حال مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی مستقبل کی سیاست کی بقا اسی میں ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں بطور اپوزیشن لیڈر فعال کردار ادا کریں۔ سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان نے اپنی غلطیوں کا احساس نہیں کیا۔ ان سے سبق نہیں سیکھا اور وہ تصادم کی سیاست پر ہی اکتفا جاری رکھیں گے تو ان کے بقول وہ نہیں سمجھتے کہ عمران خان دوبارہ اقتدار حاصل کر سکیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریکِ انصاف قومی اسمبلی سے استعفی دے کر بھی اپوزیشن کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔ تاہم مجیب الرحمن شامی کے مطابق یہ لازمی نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کے تمام ارکان اسمبلی سے مستعفی ہوں۔ اور اگر استعفے دے بھی دیتے ہیں تو یہ الیکشن کمیشن کی صوابدید ہے کہ وہ الیکشن کب کراتے ہیں اور اس حوالے سے وہ حکومت پر زیادہ پریشر نہیں ڈال سکتے۔
کیوں کہ الیکشن کمیشن اس حوالے سے سپریم کورٹ اور صدر مملکت کو پہلے ہی آگاہ کر چکے ہیں۔یاد رہے کہ 2014 میں بھی تحریکِ انصاف نے جب اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا تو تحریکِ انصاف کے چند ارکان نے اپنی پارٹی کا ساتھ نہیں دیا تھا۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے آئین کی روشنی میں اسمبلی بحال تو کردی ہے۔ تاہم ملک کو درپیش چیلنجز اور سیاسی بحران کو حل کرنے کی ذمہ داری دوبارہ سیاسی رہنماؤں پر ہی چھوڑ دی گئی ہے۔سیاسی تجزیہ کار حسن عسکری نے کہا کہ اگر ماضی کو دیکھا جائے تو پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کی ملک کو درپیش بحرانوں کو حل کرنے کے حوالے سے اہلیت کافی محدود ہے۔
جس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی سیاست دوبارہ سے تصادم کی جانب بڑھ رہی ہے۔جمعرات کو سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کی بحالی کا فیصلہ جاری کیا تھا۔ اسی فیصلے میں اسپیکر کو بروز ہفتہ اجلاس بلانے اور تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تحریک عدم اعتماد کی کامیابی: نئی حکومت کو کن معاشی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے؟
کراچی ،10اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان میں بائیسویں وزیراعظم عمران خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عمران خان اب وزیراعظم نہیں رہے ہیں۔ اس تحریک کی حمایت میں 174 اراکین نے ووٹ دیئے۔ہفتے اور اتوار پاکستان میں سیاسی ماحول کے لحاظ سے غیرمعمولی دن رہے اور ہفتے کی صبح دس بجے شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس کئی مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد اتوار کو ختم ہوا۔
جہاں عمران خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی پیش کردہ عدم اعتماد کی قرارداد پر ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ووٹنگ ہوئی۔ جس میں اپوزیشن جماعتوں اور سابق حکومتی اتحادی پارٹیوں کے اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے جب کہ تحریک انصاف کے اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
اب قومی اسمبلی میں پیر کو نئے قائدایوان کا انتخاب ہونے جا رہا ہے جہاں متحدہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ہیں۔پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے ساڑھے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار میں گزارا، اس دوران جہاں اسے سیاست، خارجہ امور اور داخلی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا رہا وہیں معیشت کے اہم میدان میں بھی اسے سخت تجربات سے گزرنا پڑا۔اور اب جب عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے تب بھی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ملک کی مشکلات کا توڑ نکالنے کے لیے نئی حکومت کو بھی اسی طرح کے سخت چیلنجز کا سامنا رہے گا۔
معاشی تجزیہ کار اور اقبال اسماعیل سیکیورٹیز میں ہیڈ آف ریسرچ فہد رؤف کہتے ہیں کہ نئی حکومت کے بعد بھی معیشت کو درپیش چیلنجز اپنی جگہ باقی رہیں گے۔ ان کے بقول سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ ماہ جو سبسڈی پیکیج دیا تھا جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی کی قیمتیں کم کی گئی تھیں۔
کیا وہ یہ سبسیڈی جاری رکھ پائی گے؟ انہوں نے رواں ہفتے ہونے والی پیش رفت اور سپریم کورٹ کے جمعرات کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس فیصلے سے کسی حد تک سیاسی بے یقینی کا ضرور خاتمہ ہوا تھا۔پی ٹی آئی حکومت کی دی گئی سبسیڈی پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ کوئی بھی حکومت اسے جاری رکھنے کی پوزیشن میں ہوگی کیوں کہ ایسا کرنا آئی ایم ایف کے پروگرام کے برخلاف اور فی الحال معیشت کے لیے ممکن نہیں ہے۔
ان کے بقول اس پروگرام کے تحت پاکستان کا قرضہ اسی وجہ سے رکا ہوا ہے۔جب کہ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی شرح مزید بڑھنے کے امکانات ہیں۔
البتہ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے حکومت یہ ضرور کرسکتی ہے کہ گندم اور فرٹیلائزرز کی اسمگلنگ کو روکے تاکہ ملک میں غذائی اشیا کی قیمتیں کسی حد تک مستحکم رہیں۔ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال اور اگلے برس پاکستان کو اب تک کے تخمینوں کے مطابق لگ بھگ30 ارب ڈالرز کی رقم واپس کرنی ہے۔
تاہم فہد رؤف کا خیال ہے کہ اگر خطے میں کوئی بڑی جیو پولیٹیکل صورتِ حال تبدیل نہ ہوئی تو آئی ایم ایف و دیگر مالیاتی ادارے اور ممالک پاکستان کے واجب الادا قرضوں کو ری شیڈول کردیں گے کیوں کہ قرض دہندگان کے لیے قرض پر سود کمانا بھی اہم ہوتا ہے اور جیو پولیٹیکس قرضوں کی واپسی کے معاملات میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔واضح رہے کہ چین نے حال ہی میں پاکستان پر واجب الادا قرض کی ادائیگی مؤخر کی ہے۔
تیس مارچ کو وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کو مارچ میں چین کو چار ارب تیس کروڑ ڈالرز کی ادائیگی کرنا تھی جس میں سے پاکستان نے دو ارب ڈالرز کا قرضہ رول اوور یعنی مؤخر کیا جب کہ دو ارب تیس کروڑڈالرز کی ادائیگی کو مؤخر کرنے کا عمل جاری ہے۔