بین الاقوامی خبریں

فلسطینی صحافی بشریٰ الطویل 9 ماہ کی انتظامی قید کے بعد رہا

مراکش کی فٹ بال میں شاندارفتح کا جشن منانے والے فلسطینیوں کی گرفتاریاں

Palestinian journalist Bushra al-Taweel رملہ ، 12دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) قابض اسرائیلی حکام نے فلسطینی خاتون صحافی بشریٰ الطویل کو اسرائیلی قابض ریاست کی جیلوں میں 9 ماہ تک انتظامی حراست کے بعد رہا کردیا۔رہائی پانے والی خاتون بشریٰ الطویل کا سالم فوجی چوکی پر ان کے والد اور اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے رہ نما الشیخ جمال الطویل اور ان کے خاندان کے افراد نے استقبال کیا۔قابض فوج نے 21 مارچ کو نابلس کے جنوب میں زعترہ فوجی چوکی سے الطویل کو گرفتار کیا تھا اور اس کی انتظامی حراست میں تین بار تجدید کی تھی۔قابض فوج نے رہ نما الشیخ جمال الطویل کو کئی روز قبل ایک سال سے زائد عرصے کے بعد رہا کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ الشیخ جمال الطویل کل 16 سال قابض ریاست کی جیلوں میں قید رہ چکے ہیں۔

فلسطینیوں کی 398 دونم زمین پر اسرائیلی قبضے کا منصوبہ تیار

قلقیلہ ، 12دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)قابض اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شہر قلقلیہ کے ملحق گاوں جنسافٹ میں فلسطینیوں کے زیر ملکیت 398 دونم اراضی قبضے میں لینے اور اسے سرکاری زمین قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں قلقلیہ میں قابض فوج نے ایک اعلان کے مطابق اس سلسے میں دستاویز پر اسرائیلی اہلکار یوسی سیگل نے دستخط کیے ہیں۔ یوسی سیگل کو مغربی کنارے میں نام نہاد سرکاری رئیل اسٹیٹ کے شعبے اور زمینوں کے غیر حاضر مالکان کی زمینوں کا ریکارڈ رکھنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔قابض فوج کے اعلان کے سات زمین کے نقشے بھی بنا کر لگائے ہیں اور وہ دستاویزات تیار کر کے منسلک کی گئی ہیں جو اس قبضے کے لیے ضروری سمجھی گئیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق قبضے میں امکانی طور پر لی جانے والی یہ زمین قرنا، خیلات، دیجاہ، جبل السریج،خیلات البلا، راس البشیر، العرودھ اور وادی الخانیق کے دیہات سے جڑی ہوئی ہے۔اسرائیلی قابض فوج اس سے پہلے بھی اسی جنسافٹ نامی گاوں سے فلسطینیوں کی زیر ملکیت وسیع قطعات اراضی چھین چکی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ ایک سو دونم اراضی پر بلڈوزربھی چلایا گیا ہے تاکہ اس زمین کو ناجائز یہودی بستیوں کے لیے استعمال کر سکے۔

مراکش کی فٹ بال میں شاندارفتح کا جشن منانے والے فلسطینیوں کی گرفتاریاں

رملہ ، 12دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیلی قابض فوج نے مغربی کنارے کے الگ الگ علاقوں میں گرفتاری مہم شروع کی۔ یہ مہم ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب غرب اردن میں فلسطینی شہری قطر میں جاری فٹ بال کپ کے دوران مراکش کی شاندار فتح کا جشن منا رہے ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق ان فورسز نے رام اللہ کے شمال میں واقع قصبے برزیت سے سابق اسیر ادھم ابو عرقوب اور برزیت یونیورسٹی کے طالب علم ضیا صبح کو کو گرفتار کیا۔

سابق اسیر نبیل ابو شادوف اور ان کے بھائی طارق کو جنین کے جنوب مغرب میں واقع برقین قصبے میں ان کے گھروں پر چھاپے کے بعد گرفتار کیا گیا۔دو نوجوانوں ناہد حمارشہ اور علی بعجاوی کو بھی جنین کے قصبے یعبد سے گرفتار کیا گیا۔ہفتے کی شام اسرائیلی قابض افواج نے مراکش کی قومی ٹیم کے قطر 2022 ورلڈ کپ میں گولڈن اسکوائر کے لیے کوالیفائی کرنے کا جشن منانے والوں کو کچلنے کی کوشش کی جو باب العامود کے علاقے میں جمع تھے۔پریس ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض پولیس اور اس کی گھڑ سوار ٹیموں نے شہریوں پر حملہ کیا۔ قابض فوج کی طرف سے مراکش کی فٹ بال میں کامیابی کا جشن منانے والوں پر تشدد کیا اور ان کی مارپیٹ کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button