یہودی انتہا پسندوں کی مسجد اقصیٰ کے دروازوں پر فلیگ مارچ کی تیاری
نابلس میں جھڑپیں، صہیونی فوج نے ایک فلسطینی شہید کردیا
مقبوضہ بیت المقدس ، 20جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کے علم بردار یہودی انتہا پسند گروپوں نے آئندہ ہفتے مسجد اقصیٰ کے دروازوں کےسامنے اور یروشلم شہر میں ایک نئے فلیگ مارچ کی تیاری شروع کی ہے۔مبینہ ٹمپل گروپس اور متعدد دائیں بازو کی صہیونی آبادکاری تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی جھنڈے اٹھا کر جلوس منعقد کریں گے۔ ان گروپوں کی طرف سے آباد کاروں کو دی گئی کال کے مطابق مارچ 26-7 بدھ کی رات نو بج کر پینتالیس منٹ پر شروع ہو گا اور اسرائیلی پرچم بردار جلوس یروشلم کے پرانے شہر سے گزرے گا۔یہودیوں کا مارچ مبارک مسجد اقصیٰ کے دروازوں کے سامنے آئے گا اور مسجد کے الجدید، الزہرہ، العامود، اور الاسباط، مراکشی دروازہ سے گذرتے وہئے دیوار براق تک جائے گا۔
نئے مارچ کا راستہ بیت المقدس پر قبضے کی سالگرہ کے موقع پر صہیونیوں کی طرف سے منعقدہ سالانہ گلیگ مارچ کی طرح ہے جو اس سال 18 مئی 2023 کو نکالا گیا تھا۔ اس اشتعال انگیز جلوس کے نکالے جانے کے بعد کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی۔قابض ریاست اور اس کے آباد کار گروہ ٹیمپل ماؤنٹ کی تباہی کی نام نہاد یاد کو ایک سالانہ پروگرام میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ مسجد اقصیٰ کے خلاف جارحیت کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔اسرائیل کے کئی وزراء اور کنیسٹ کے ارکان مارچ میں شرکت کرنے والے ہیں۔یہودیوں کا یہ مارچ باب الاسباط کی فتح کی چھٹی برسی کے موقعے پر نکالا جا رہا ہے۔ جمعرات 7-27-2023 باب الاسباط کو کئی سال کی بندش کے بعد کھولے جانے کی سالگرہ ہے۔ادھر مسجد اقصیٰ کے مبلغ الشیخ عکرمہ صبری نے آباد کاروں کی طرف سے نکالے گئے جلوسوں کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا۔
نابلس میں جھڑپیں، صہیونی فوج نے ایک فلسطینی شہید کردیا
مقبوضہ مغربی کنازے کے شہر نابلس میں اسرائیلی فوج نے فائرنگ کرکے ایک فلسطینی کو شہید کردیا۔ جمعرات کی صبح فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ ایک الگ بیان میں فلسطینی ہلال احمر نے کہا کہ نابلس کے مشرقی حصے میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم چار افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں۔ ان زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔بدھ کی شام فلسطینی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اسلامی جہاد موومنٹ کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ کے کارکنوں کی اسرائیلی فورسز کے ساتھ پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔
اسرائیلی فورسز نے نے نابلس کے مشرق میں دھاوا بول دیا تھا۔اس دوران القدس بریگیڈز کے جنگجوؤں نے ایک اسرائیلی فوجی گاڑی میں دھماکہ خیز مواد سے دھماکہ کردیا۔فلسطینی خبر رساں ادارے نے بتایا کہ قبل ازیں اسرائیلی فورسز نے نابلس کے مشرقی علاقے پر دھاوا بولا تھا۔ اس کا مقصد یہودی آباد کاروں کی جانب سے مزار حضرت یوسف علیہ السلام میں داخلے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار والے اس علاقے میں اکثر و بیشتر فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں گزشتہ 15 ماہ کے دوران تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اسرائیلی ریزرو فوجیوں کا حکومتی عدالتی منصوبے کے خلاف مزاحمت کا عزم
اسرائیل میں نیتن یاھو کی حکومت عدالت کی طاقت کو محدود کرنے اور اس کے اختیارات میں کمی لانے کے اپنے منصوبے پر بدستور عمل پیرا ہے تو دوسری جانب مخالفین کا احتجاج بھی شدید ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی ریزور فوجیوں نے تل ابیب میں بڑا مارچ کیا اور دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت سپریم کورٹ کے اختیارات کو روکنے کے اپنے متنازع منصوبے کو آگے بڑھائے گی تو وہ اپنی رضا کارانہ خدمات فراہم کرنے سے انکار کردیں گے۔ اسرائیلی فوجیوں نے بدھ کے روز مارچ کیا۔وزیر اعظم نیتن یاہو کے قوم پرست مذہبی اتحاد کی طرف سے عدالت سے اس کے کچھ نظرثانی کے اختیارات چھیننے کی مہم نے پورے اسرائیل میں بڑے پیمانے پر احتجاج پیدا کردیا ہے۔ امریکہ سمیت اسرائیل کے اتحادی ملکوں میں بھی اسرائیلی حکومت کے اس منصوبے پر تشویش پھیل گئی ہے۔اتوار اور پیر کو مسودہ قانون کی پہلی خواندگی کی منظوری کی گئی تو مظاہروں میں بھی شدت آگئی ہے۔ْْ
ایک کابینہ کے وزیر نے کہا کہ اگر احتجاج میں کوئی بڑا اضافہ ہوتا ہے تو اپنی پولرائزنگ مہم پر دوبارہ غور کر سکتی ہے۔لڑاکا طیاروں کے پائلٹوں اور سپیشل فورسز کے یونٹوں سمیت فوج کی کچھ انتہائی اشرافیہ میں موجود تحفظ پسندوں کے احتجاج نے خاص توجہ مبذول کرائی ہے۔ اس صورت حال سے سے دفاعی سربراہان کی جانب سے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی ہے کہ ایسے مظاہرے قومی سلامتی سے سمجھوتہ کرنے کا خطرہ پیدا کردیں گے۔ اسرائیلی فوج نے احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔حکومت اور اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں کی ضرورت اس بات پر لگام لگانے کے لیے ہے کہ فعال ججوں کو سیاست میں مداخلت سے روکا جائے۔ تاہم عدلیہ منصوبے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ عدلیہ اصلاحات کے نام پر تجاویز اسرائیل کی جمہوری اقدار کو مجروح کر رہی ہیں۔
ریزرو فوجیوں میں سے ایک 51 سالہ رون شیرف نے کہا کہ ہر سپاہی جو اپنی جان کو خطرے میں ڈالتا ہے اور مشن پر جاتا ہے وہ ایک ایسی ریاست کے لیے ایسا کرتا ہے جس کی تعریف یہودی اور جمہوری ہو۔ لیکن اگر آپ ان میں سے کسی ایک کو نکال دیتے ہیں تو یہ ملک اس قابل نہیں رہے گا جس کی حفاظت کی جا سکے۔احتجاج کے منتظمین نے رائٹرز کے ساتھ ملٹری ڈاکٹروں کے 300 خطوط کا اشتراک کیا جنہوں نے کہا ہے کہ وہ خدمت نہیں کریں گے۔ اسی طرح انہوں نے خصوصی آپریشنز میں حصہ لینے والے 750 ریزرو فوجیوں کے دستخط شدہ ایک خط کا حوالہ دیا ہے جس کہا گیا ہے کہ اگر قانون سازی منظور ہوتی ہے تو وہ ڈیوٹی کے لئے رپورٹ نہیں کریں گے۔



