واشنگٹن، 2مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن روس کے مقابلے کے لیے اپنی افواج یوکرین نہیں بھیجے گا تاہم روسی پروازوں کے لیے امریکی فضائی حدود بند کی جا رہی ہے۔
امریکی کانگریس سے اپنے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران صدر بائیڈن نے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کو خبر دار کیا کہ انہیں یوکرین پر حملے کی قیمت ادا کرنا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی روسی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کرکے روس کو مزید الگ تھلگ کر دیں گے۔
امریکی قانون سازوں اور دیگر اہم شخصیات سمیت امریکہ میں یوکرین کی سفیر بھی اس خطاب کے دوران حاظرین میں موجود تھیں۔ کئی خواتین اراکین کانگریس نے یوکرین سے اظہار یکجہتی میں اس کے پرچم میں شامل نیلے اور پیلے یا سنہری رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔
روس کے خلاف یوکرین پر حملے کیبعد عائد کی گئی پابندیوں کے حوالے سے صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی روسی معیشت پر اضافی دباؤ ڈالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ روسی کرنسی روبل پہلے ہی اپنی قدر کا 30 فی صد کھو چکا ہے جب کہ روسی اسٹاک مارکیٹ بھی اپنی قدر کا 40 فی صد کھو چکی ہے اور تجارت بدستور معطل ہے۔بائیڈن نے کہا کہ روس کی معیشت تباہ ہو رہی ہے اور پوٹن اس کے ذمہ دار ہیں۔یوکرین کے عوام کے لیے حمایت پر زور دیتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی مل کر یوکرین کے عوام کی آزادی کی لڑائی میں ان کی مدد کر رہے ہیں اور انہیں فوجی ،اقتصادی اور انسانی امداد فراہم کر رہے ہیں۔
ان کے بقول ہم یوکرین کوایک بلین ڈالر سے زیادہ کی براہِ راست امداد دے رہے ہیں۔ہم یوکرین کے لوگوں کی مدد جاری رکھیں گے کیوں کہ وہ اپنے ملک کا دفاع کر رہے ہیں اور ان کے مصائب کو کم کرنے میں مدد کریں گے۔
صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ امریکی افواج یوکرین میں روسی افواج کے ساتھ لڑائی میں شامل نہیں ہیں اور نہ ہی اس میں شامل ہوں گی۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہماری افواج یوکرین میں لڑنے کے لیے یورپ نہیں جا رہی ہیں، بلکہ وہ اپنے نیٹو اتحادیوں کے دفاع کے لیے جا رہی ہیں۔بائیڈن نے کہا کہ چھ دن قبل پوٹن نے آزاد دنیا کی بنیادوں کو یہ سوچ کر ہلانے کی کوشش کی کہ وہ اسے اپنے خطرناک طریقوں سے جھکا سکتے ہیں۔
تاہم پوٹن نے بہت ہی غلط اندازہ لگایا۔صدر بائیڈن نے کہا کہ پوٹن کو طاقت کی ایک ایسی قسم کاسامنا کرنا پڑا جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔جو یوکرینی عوام ہیں۔
ان کے بقول یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے لے کر ہر یوکرینی شہری کی ہمت اور عزم نے دنیا کو متاثر کیا ہے۔صدر بائیڈن کے آف دی یونین خطاب کے موقع پر ایوان میں یوکرین کی امریکہ میں سفیر بھی موجود تھیں۔بائیڈن نے ان کی موجودگی کو سراہتے ہوئے کانگریس کے اراکین سے کہا کہ آئیے اس چیمبر میں ہم میں سے ہر ایک یوکرین اور دنیا کے لیے ایک واضح پیغام بھیجے۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ اپنی پوری تاریخ میں ہم نے یہ سبق سیکھا ہے جب آمر اپنی جارحیت کی قیمت ادا نہیں کرتے تو وہ مزید افراتفری کا باعث بنتے ہیں۔یوکرین پر روسی حملے کے بعد کی گئی اپنی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے امریکہ کے یورپی اتحادیوں کو اس مسئلے پر یکجا کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے دنیا کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ پوٹن یوکرین کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور یہ کہ وہ اس حملے کا جھوٹا جواز پیش کریں گے۔



