بین الاقوامی خبریں

چین میں مظاہرے ایغوروں سے یک جہتی سے دور

ہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ مرنے والے ایغور تھے۔ چین میں ترک نسل ایغور برادری ایک طویل عرصے سے سخت ترین حکومتی کریک ڈاؤن کی شکار ہے،

بیجنگ ، 12دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین میں آتشزدگی کے ایک واقعے میں متعدد ہلاکتوں کے بعد ملک بھر میں غیرمعمولی اور غیرعمومی مظاہرے شروع ہو گئے تھے، تاہم کم مظاہرین ہی جانتے ہیں کہ مرنے والے ایغور تھے۔چینی صوبے سینکیانگ کے دارالحکومت اُرمچی میں 24 نومبر کو ایک رہائشی عمارت میں آتشزدگی کے واقعے میں دس افراد کی ہلاکت کے بعد چین بھر میں سوشل میڈیا اس غم و غصے سے عبارت تھا کہ کورونا وائرس سے متعلق سخت ضوابط کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں تاخیر ہوئی جس کا نتیجہ ہلاکتوں کی صورت میں نکلا۔

اس واقعے کے بعد ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز ہو گیا تھا جو بدستور جاری ہے۔ تاہم ان مظاہروں میں شامل بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ مرنے والے ایغور تھے۔ چین میں ترک نسل ایغور برادری ایک طویل عرصے سے سخت ترین حکومتی کریک ڈاؤن کی شکار ہے، جس پر بین الاقوامی برداری کی جانب سے مسلسل تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔چینی مظاہرین آتشزدگی کے اس واقعے میں ہلاک ہونے والے کو ‘زیرو کووڈ پالیسی کے شہید‘ قرار دیتے ہیں اور ان کے مطالبات میں سرفہرست کورونا سے متعلق سخت حکومتی ضوابط کا خاتمہ اور زیادہ جمہوری حقوق ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اس آتشزدگی میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے گفتگو کی۔ ان لواحقین کے مطابق تاہم یہ آتشزدگی کا یہ واقعے ان کے ساتھ ہونے والے سانحات کا فقط ایک تسلسل تھا۔ عبدالحافظ مائی مائی ٹم مِن ایغور نسل ہیں اس واقعے میں ان کی خالہ اور ان کے چار بچے جل کر ہلاک ہو گئے۔ سن 2016سے سوئٹزرلینڈ میں رہنے والے عبدالحافظ مائی مائی ٹم مِن کے مطابق ان کی خالہ کے شوہر اور بیٹے کو چینی حکام نے2016 اور2017میں گرفتار کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button