سرورققومی خبریں

اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا، جوابدہی ضرور طے کی جائے گی، راہل گاندھی کا طلبہ پر لاٹھی چارج پر سخت ردعمل

راہل گاندھی کا وزیر اعظم مودی سے طلبہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ، خاموشی پر سخت سوالات

نئی دہلی، 21 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر دہلی پولیس کی کارروائی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نوجوانوں کے بنیادی مسائل پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم طلبہ سے معافی مانگیں اور احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر طاقت کے استعمال کا سلسلہ بند کیا جائے۔

راہل گاندھی نے میڈیا سے گفتگو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ملک کا تعلیمی اور امتحانی نظام اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے، جس کا خمیازہ لاکھوں طلبہ بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ روز کے واقعات کے باوجود وزیر اعظم نے نہ صرف کوئی معذرت نہیں کی بلکہ نوجوانوں کے تحفظات پر بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی اور بنیادی حق ہے، جسے طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔

راہل گاندھی نے پولیس افسران اور سرکاری ملازمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران آئین کو مقدم رکھیں، کیونکہ اقتدار ہمیشہ قائم نہیں رہتا جبکہ قانون کے سامنے جوابدہی ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہندوستان کے معصوم طلبہ کے خلاف کارروائی کے احکامات پر آنکھیں بند کرکے عمل کرنے والے تمام افسران کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا اصل رہنما آئین ہے، اقتدار عارضی ہوتا ہے لیکن ہر اقدام کا حساب ایک نہ ایک دن ضرور دینا پڑتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب "سنسد چلو” مارچ کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب پیش قدمی کی۔ مظاہرین نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پیپر لیک کی شفاف تحقیقات، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پارلیمنٹ کے قریب سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کے بعد مظاہرین اور دہلی پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

دہلی پولیس کے مطابق جھڑپوں میں 118 سے زائد پولیس اہلکار، جن میں سینئر افسران بھی شامل تھے، زخمی ہوئے جبکہ تقریباً 60 مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض مظاہرین نے پتھراؤ کیا، سیکیورٹی بیریئر توڑنے کی کوشش کی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، تاہم احتجاجی رہنماؤں نے حکومت پر طاقت کے غیر ضروری استعمال کا الزام عائد کیا۔

ادھر مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے رام منوہر لوہیا اسپتال کا دورہ کرکے زخمی مظاہرین کی عیادت کی اور کاکروچ جنتا پارٹی کے وفد سے ملاقات بھی کی۔ وفد نے ایک بار پھر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، مبینہ پیپر لیک تنازع کے بعد خودکشی کرنے والے نیٹ امیدواروں کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے اور اسپتال میں زیر علاج سماجی کارکن سونم وانگچک کی رہائی سمیت اپنے دیگر مطالبات حکومت کے سامنے رکھے۔

دوسری جانب کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے راہل گاندھی کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں پر تشدد کا یہ واقعہ ملکی تاریخ کے ایک سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار کے حکم پر نوجوانوں کے خلاف طاقت استعمال کرنے والوں کو مستقبل میں آئینی جوابدہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طلبہ پر لاٹھیاں برسانے کے بجائے حکومت کو امتحانی نظام میں بار بار سامنے آنے والی خامیوں، پیپر لیک اور انتظامی ناکامیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر تفصیلی بحث کرائی جائے اور وزیر اعظم ملک کے کروڑوں نوجوانوں کے سوالات کا جواب دے کر ان کا اعتماد بحال کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button