تلنگانہ کی خبریں

تلنگانہ میں راہل گاندھی کا ذات پر مبنی مردم شماری کا وعدہ

تلنگانہ اسمبلی انتخاب کے پیش نظر سبھی پارٹیاں انتخابی تشہیر میں مصروف ہیں۔

حیدرآباد،19اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) تلنگانہ اسمبلی انتخاب کے پیش نظر سبھی پارٹیاں انتخابی تشہیر میں مصروف ہیں۔ کانگریس نے جمعرات کو بھوپال پلی ضلع میں کئی نکڑ اجلاس منعقد کیے جس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے وعدہ کیا کہ ریاست میں اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس پارٹی ریاست میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائے گی۔ انھوں نے ذات پر مبنی مردم شماری کو ملک کا سب سے بڑا ایشو بتاتے ہوئے اس پر وزیر اعظم مودی اور وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔تلنگانہ میں دوسرے دن انتخابی تشہیر کر رہے راہل گاندھی نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری ایک ایکسرے کی طرح ہوگی جو یہ مقرر کرے گی کہ ملک میں پسماندہ طبقات کی آبادی صرف 5 فیصد ہے یا نہیں۔ ہندوستان کے بجٹ کے صرف 5 فیصد حصے پر او بی سی کا قبضہ ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ملک میں او بی سی آبادی صرف 5 فیصد ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس پہلے ہی چھتیس گڑھ، راجستھان اور کرناٹک میں ذات پر مبنی مردم شماری کا حکم دے چکی ہے۔ اگر ہماری پارٹی تلنگانہ میں اقتدار میں آتی ہے تو سب سے پہلے ہم یہاں تلنگانہ کا ایکسرے کریں گے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’ایکسرے‘ سے یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ وزیر اعلیٰ کے کنبہ نے تلنگانہ کے لوگوں کا کتنا پیسہ لوٹا۔انھوں نے وعدہ کیا کہ کانگریس غریبوں، کسانوں اور مزدوروں کی حکومت دے گی۔راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ تلنگانہ میں ایک کنبہ کی حکومت چل رہی ہے۔ ملک کی سبھی ریاستوں میں سب سے زیادہ بدعنوانی تلنگانہ میں ہے۔ بدعنوانی کا تلنگانہ ماڈل دوسری ریاستوں میں برآمد کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے لیے تحریک کے دوران لوگوں کو امید تھی کہ نئی ریاست میں عوام کی حکومت آئے گی، لیکن ریاست کی تشکیل کے بعد وزیر اعلیٰ نے خود کو لوگوں سے دور کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کا خواب عوام کی حکومت کا تھا، لیکن آپ نے پایا کہ ایک کنبہ آپ پر حکومت کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button