سرورققومی خبریں

آر ایس ایس تعلیمی نظام پر قبضہ کر رہی ہے، طلبہ کو ‘اندھ بھکت’ بنانا چاہتی ہے؛ راہل گاندھی

پیپر لیک کے خلاف طلبہ کی تحریک پر راہل گاندھی کا اظہارِ فخر، کہا: ہر ہندوستانی کو نوجوانوں پر ناز ہونا چاہیے

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) لوک سبھا میں پیپر لیک اور امتحانات میں بدعنوانیوں کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل 2026 پر بحث کے دوران قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی حکومت اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک کا پورا تعلیمی نظام آر ایس ایس کے اثر و رسوخ میں آچکا ہے اور طلبہ کو آزادانہ سوچنے والا شہری بنانے کے بجائے ’’اندھ بھکت‘‘ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کا بنیادی مقصد سوال اٹھانے، نئی سوچ پیدا کرنے اور نوجوانوں کو ان کے خوابوں کی تکمیل میں مدد دینا ہے، مگر موجودہ نظام اس کے برعکس کام کر رہا ہے۔

راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملک کا تعلیمی ڈھانچہ تیزی سے نجکاری کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث عام خاندانوں کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا مشکل بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم دھرمندر پردھان محض ایک علامتی چہرہ ہیں، جبکہ وزارت تعلیم کے فیصلے دراصل آر ایس ایس کے زیر اثر لیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس صرف اداروں پر اثر انداز نہیں ہو رہی بلکہ طلبہ پر ایک مخصوص نظریہ اور تاریخ مسلط کرنا چاہتی ہے تاکہ نوجوان آزادانہ سوچنے کے بجائے ایک خاص بیانیے کو بغیر سوال قبول کریں۔

کانگریس رہنما نے الزام عائد کیا کہ ملک کی تقریباً تمام جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری بھی آر ایس ایس کے نظریاتی اثر کے تحت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو اپنی دلچسپی، خواب اور مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق ہونا چاہیے، لیکن موجودہ تعلیمی ماحول میں انہیں سوال پوچھنے اور اختلاف رائے رکھنے کی بھی آزادی نہیں دی جا رہی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کو وہ تاریخ پڑھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جسے انہوں نے آر ایس ایس کا ’’خیالی بیانیہ‘‘ قرار دیا۔

اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے حالیہ پیپر لیک واقعات کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے طلبہ احتجاج کا بھی بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج نہ غصے کی علامت تھا، نہ نفرت کی اور نہ ہی تشدد کا اظہار، بلکہ یہ ملک کے مستقبل یعنی نوجوان نسل کی آواز تھی، جس کا ہر سیاسی جماعت کو احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کے رہنما اپنے ہی بچوں سے اس احتجاج کے بارے میں پوچھیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد ان مظاہرین کے مؤقف سے اتفاق رکھتی ہے۔ ان کے مطابق ہر ہندوستانی کو ان طلبہ پر فخر ہونا چاہیے جنہوں نے اپنے مستقبل کے لیے پرامن انداز میں آواز بلند کی۔

راہل گاندھی نے احتجاج میں شریک ایک طالبہ سے ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طالبہ نے ’’طالب علم‘‘ کی نہایت خوبصورت تعریف پیش کی۔ ان کے مطابق طالبہ نے کہا کہ ایک حقیقی طالب علم وہ ہوتا ہے جو کھلے ذہن اور کھلے دل کے ساتھ یہ تسلیم کرتا ہے کہ علم ہمیشہ بدلتا رہتا ہے اور انسان کو مسلسل سیکھتے رہنا چاہیے۔ راہل گاندھی نے بتایا کہ طالبہ نے ایسے لوگوں کا بھی ذکر کیا جو خود کو ہر چیز کا جاننے والا سمجھتے ہیں، دوسروں کی بات نہیں سنتے اور اپنی سوچ کو ہی آخری حقیقت مانتے ہیں۔ جب انہوں نے طالبہ سے پوچھا کہ وہ ایسے افراد کو کیا کہتی ہے تو اس نے جواب دیا: "میں انہیں بے وقوف کہتی ہوں۔”

اپنی تقریر کے اختتام پر قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ملک کے نوجوان کسی بھی قیمت پر اپنی آزادیِ فکر سے دستبردار ہونے والے نہیں ہیں۔ ان کے بقول نوجوان نسل واضح پیغام دے رہی ہے کہ وہ کسی تنظیم یا نظریے کی اندھی پیروی نہیں کرے گی، نہ ہی کسی کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ طلبہ ہی دراصل ہندوستان کی اصل طاقت اور مستقبل کی نمائندگی کرتے ہیں، اسی لیے ان کی آواز کو دبانے کے بجائے سننا اور ان کے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

اس دوران ایوان میں راہل گاندھی کے بیانات پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان کئی مواقع پر شدید نوک جھونک بھی دیکھنے میں آئی۔ تاہم راہل گاندھی نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے حکومت پر الزام عائد کیا کہ تعلیمی اداروں کی خودمختاری، نوجوانوں کے مستقبل اور آزادانہ سوچ کے ماحول کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ان الزامات پر ایوان میں سخت اعتراض بھی کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button