
راجستھان میں بیوپیواکین انجیکشن کے استعمال پر پابندی، 16 مریضوں میں سنگین ردعمل
حیدرآباد اسپتال میں مریضوں کی طبیعت بگڑنے کے بعد مخصوص بیاچ کی فروخت اور استعمال روک دیا گیا،
جے پور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) راجستھان حکومت نے سیزرین اور دیگر سرجریوں میں استعمال ہونے والے بیوپیواکین (Bupivacaine) انجیکشن کے ایک مخصوص بیاچ کی فروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ حیدرآباد کے ایک اسپتال میں 16 مریضوں میں انجیکشن لگنے کے بعد شدید منفی ردعمل کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد کیا گیا۔
راجستھان کے ڈرگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے مطابق متاثرہ انجیکشن "Bupivacaine Hydrochloride in Dextrose” ہے، جسے تھیمس میڈیکیئر لمیٹڈ نے تیار کیا ہے۔ یہ دوا سیزرین ڈیلیوری سمیت مختلف سرجریوں کے دوران ریڑھ کی ہڈی کی اینستھیزیا فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
ایس ایم ایس میڈیکل کالج، جے پور کے پرنسپل ڈاکٹر دیپک مہیشوری نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک انجیکشن کے استعمال کو فوری طور پر بند کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ ماہرین اینستھیزیا کے مشورے کے بعد کیا گیا۔
انڈین سوسائٹی آف اینستھیزیالوجسٹس (ISA) اور اینستھیزیا پیشنٹ سیفٹی ایسوسی ایشن (APSA) نے بھی ملک بھر کے اینستھیزیولوجسٹوں کو ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے تھیمس میڈیکیئر لمیٹڈ کے تیار کردہ بیوپیواکین انجیکشن کا استعمال فوری طور پر روکنے کی اپیل کی ہے۔
ڈرگ کنٹرولر اجے پھٹک کے مطابق متاثرہ بیچ نمبر BKP 02601 سے متعلق رپورٹ ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (DCGI) کو بھی ارسال کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حیدرآباد کے ایک اسپتال میں انجیکشن لگنے کے بعد 16 مریضوں کو متلی، الٹی، شدید سر درد اور بعض کو دوروں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہیں آئی سی یو اور وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا۔
محکمہ کے مطابق متاثرہ بیچ کے تقریباً 14 ہزار انجیکشن راجستھان بھیجے گئے تھے، جنہیں جے پور، ہنومان گڑھ، بھرت پور، کرولی، کوٹا، سری گنگا نگر اور ٹونک میں تقسیم کیا گیا۔ ریاست بھر میں ان انجیکشنز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ نمونے لیبارٹری جانچ کے لیے جمع کیے جا رہے ہیں۔
محکمہ صحت نے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں، طبی اداروں اور تقسیم کاروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اگلے حکم تک متعلقہ بیچ کی فروخت اور استعمال فوری طور پر بند کر دیں۔ مرکزی حکومت کی ٹیم بھی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔



