
رام پور میں بجلی کے جھٹکوں سے خاتون کی موت، شوہر گرفتار
وراثتی زمین فروخت کرنے سے انکار مہنگا پڑا، بجلی کے جھٹکوں سے خاتون کی موت کا الزام۔
رام پور، 17 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) اتر پردیش کے رام پور ضلع کے بلاس پور علاقے میں ایک خاتون کی موت کے معاملے نے سسرال میں مبینہ تشدد اور وراثتی زمین کے تنازع سے جڑے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ مقتولہ نسرین کے اہل خانہ نے اس کے شوہر اسرار عرف گڈو اور سسرال کے دیگر افراد پر مسلسل ہراسانی، تشدد اور زمین فروخت کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے اسرار عرف گڈو کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ دیگر نامزد افراد کے کردار کی جانچ کی جارہی ہے۔
نسرین کی شادی 2013 میں اسرار عرف گڈو سے ہوئی تھی۔ اس کے پانچ بچے ہیں، جن میں چار بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔ نسرین کے والدین کا انتقال ہوچکا تھا اور اہل خانہ کے مطابق اسے والدین کی جانب سے وراثت میں زمین ملی تھی۔ خاندان کا الزام ہے کہ نسرین کے شوہر اور سسرال کے افراد اس زمین کو فروخت کرکے رقم حاصل کرنے کے لیے اس پر مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے، لیکن نسرین اپنے بچوں کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے زمین فروخت کرنے پر رضامند نہیں تھی۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ زمین کے معاملے کو لے کر نسرین اور اس کے شوہر کے درمیان اکثر تنازع رہتا تھا۔ خاندان نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ نسرین کو پہلے سے گھریلو اختلافات اور مبینہ تشدد کا سامنا تھا۔ نسرین کی بہن سمیت رشتہ داروں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے ماضی میں بھی شوہر کی جانب سے مبینہ طور پر مارپیٹ اور ہراساں کیا گیا تھا۔ خاندان کے مطابق گھریلو اختلافات، وراثتی زمین اور دیگر معاملات پر میاں بیوی کے درمیان بار بار جھگڑے ہوتے تھے۔
اہل خانہ کے مطابق 14 اگست کو رات تقریباً دو بجے زمین کے معاملے پر ایک بار پھر نسرین اور اس کے شوہر کے درمیان تنازع ہوا۔ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ معاملہ بڑھنے کے بعد نسرین کو ایک کمرے میں بند کردیا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق اس کے ہاتھ پاؤں باندھے گئے اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خاندان نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ اس کے جسم کے حساس حصے کو گرم دھات سے جلایا گیا۔ ان الزامات کی حتمی تصدیق پولیس تفتیش اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہونا باقی ہے۔
اہل خانہ کا مزید الزام ہے کہ نسرین کو بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے۔ پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خاتون کے جسم کے مختلف حصوں پر جلنے اور زخموں کے نشانات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں جسم کے تقریباً چھ مقامات پر چوٹ اور جلنے کے آثار پائے گئے، جبکہ جسم کے حساس حصے پر بھی بجلی کے جھٹکے سے متعلق زخم کا ذکر کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم میں موت کی وجہ بجلی کا جھٹکا لگنا سامنے آیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور نسرین کی لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد لاش اہل خانہ کے حوالے کردی گئی، جس کے بعد نسرین کو اس کے میکے لے جاکر سپرد خاک کردیا گیا۔ واقعے کے بعد خاندان کی جانب سے پولیس سے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
نسرین کے چچا کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اسرار عرف گڈو سمیت مجموعی طور پر چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اہل خانہ نے شوہر کے ساتھ سسرال کے دیگر افراد پر بھی نسرین کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور زمین کے معاملے میں دباؤ ڈالنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس اب یہ جانچ کررہی ہے کہ واقعے میں نامزد ہر شخص کا کیا کردار تھا۔



