دبئی، 5فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مراکش کے شمال میں 32 میٹر گہرے خشک کنویں میں پھنسے ہوئے پانچ سالہ بچے ریان کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ امدادی کارکن پائپ کے ذریعے کنویں کی تہہ تک آکسیجن اور پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔
امدادی ٹیموں نے کنویں کے برابر میں ایک گڑھا کھودا ہے تاہم مٹی کے تودے گرنے کے خطرے کے باعث کام روک دیا گیا ہے۔
امارات الیوم اورالاقتصادیہ نے مراکشی حکام کے حوالے سے بتایا کہ کنویں کے برابر 28 میٹر گہرا گڑھا کھودا گیا ہے۔ کنویں اور گڑھے کے درمیان احتیاط سے راستہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ پانچ سالہ ریان منگل کی رات شمالی مراکش کے شہر شفشاون کے قریب باب برد کے ایک قریے میں واقع 32 میٹر گہرے خشک کنویں میں گر گیا تھا۔ کنویں کا دہانہ تنگ ہے جس کی وجہ سے اس کی تہہ تک رسائی میں مشکلات درپیش ہیں۔
مراکشی حکام نے جائے وقوعہ کے قریب فضائی ایمبولینس بھیجی ہے تاکہ کنویں سے نکالے جانے کے بعد بچے کو قریب ترین ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔
ریان کے والد کا کہنا ہے کہ میری غفلت کی وجہ سے ایسا ہوا۔ حادثے کی رات ایک لمحے کے لیے نہیں سو سکا۔بچے کی والدہ کا کہنا ہے کہ صدمے میں ہوں، تاہم اللہ سے امید ہے، مایوس نہیں۔
مراکشی رضاکاروں اور امدادی ٹیم کے اہلکاروں نے ابتدا میں بچے کو نکالنے کے لیے کنویں میں اترنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر تنگ دہانے کی وجہ سے امدادی مشن کامیاب نہیں ہو سکا۔کنویں کا دہانہ وسیع کرنے کی تجویز بھی زیرغور آئی، لیکن مٹی گرنے کے خطرے کے باعث اس تجویز پر عمل نہیں کیا گیا۔
مراکشی حکومت کے ترجمان مصطفی بایتاس نے بتایا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد جائے وقوعہ کے اطراف میں جمع ہے جس کے باعث امدادی کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر ’ریان کو بچاؤ‘ ہیش ٹیگ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ لاکھوں صارفین اپ ڈیٹ حاصل کر رہے ہیں۔



