بین الاقوامی خبریں

روسی صدر کا 10 بچے پیدا کرنے والی خواتین کیلئے انعامی رقم کا اعلان

ماسکو ، 20اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روس کی آبادی میں مسلسل کمی کے باعث صدر ولادیمیر پیوٹن Vladimir Putin نے 10 یا اس سے زائد بچے پیدا کرنے والی خواتین کو خصوصی اعزاز اور خطیر رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اعلان کیا ہے کہ 10 یا اس سے زیادہ بچے پیدا کرنے والی خواتین کو اعزاز ’مدر ہیروئن‘ سے نوازا جائے گا اور ساتھ ہی 16 ہزار ڈالر نقد رقم بھی دی جائے گی۔یہ رقم 10 ویں بچے کی پیدائش پر دی جائے گی اور تمام بچوں کا زندہ ہونا شرط ہوگا۔ دوران حمل یا پیدائش کے بعد انتقال کر جانے والے بچوں کو شمار نہیں کیا جائے گا۔یہ اعلان کورونا وبا کے دوران بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی کمی اور یوکرین جنگ میں ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اعلان سے روسی صدر کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ بچوں کی زیادہ تعداد والے خاندان کو زیادہ محب الوطن سمجھا جائے گا۔ روس میں 2010 سے بچوں کی پیدائش کی شرح میں مسلسل کمی آئی ہے جو اب خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔خیال رہے کہ اس وقت روس میں بچوں کی پیدائش کی شرح فی خاتون ایک اعشاریہ پانچ صفر ہے۔


تائیوان کے مسئلے پرافریقی ملکوں میں، امریکہ کے مقابلے میں چین کی زیادہ حمایت

نیویارک، 20اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تائیوان کے مسئلے پر امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافے پر افریقہ میں توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ اور جس انداز کا رد عمل اس وقت سامنے آرہا ہے اس سے براعظم کا بیجنگ کی جانب جھکاؤ نظر آتا ہے۔دوسری جانب امریکہ نے ارکان کانگریس کے ایک وفد کے اس ہفتے کے اوائل میں تائیوان کے دورے کے بعد جمعرات کے روز تائیوان کے ساتھ تجارتی بات چیت کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ ارکان کانگریس کا یہ دورہ ایوان نمائیندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے تائیوان کے متنازعہ دورے کے بعد ہوا تھا۔

تائی پے کے ساتھ واشنگٹن کے حالیہ رابطوں نے بیجنگ کو مشتعل کردیا جس کے نتیجے میں چینی فوج نے تائیوان کے گرد سمندر میں فوجی مشقیں شروع کر دیں۔اور اسوقت صورت حال یہ ہے کہ زیادہ تر افریقی ممالک چین کے طرف دار دکھا ئی دیتے ہیں۔ اسپیکر پلوسی کے دورے کے دوران متعدد افریقی ممالک کے عہدیداروں نے امریکہ کی مذمت کی اور برسر عام چین کی حمایت کی۔ ان میں اریٹیریا کی حکومت، زمبابوے کی حکمران زینو- پی ایف پارٹی اور جمہوریہ کانگو کے وزیر خارجہ شامل ہیں۔چین کے سرکاری میڈیا نے افریقی حکومتوں کی اس حمایت کی ’’چائنا ڈیلی‘‘میں لکھے گئے ایک مضمون کے ذریعے تشہیر میں تیزی دکھائی۔

مضمون کی ہیڈ لائن تھی ‘‘ افریقی-پلوسی کے دورے میں اصل امریکی پالیسی دیکھ رہے ہیں ۔سی جی ٹی این کے ایک مضمون میں بھی ان تمام افریقی عہدیداروں کی نام دئیے گئے۔ جنہوں نے بیجنگ کی طرف داری کی۔بر اعظم افریقہ میں دو علاقے صومالی لینڈ اور اسواٹینی ایسے ہیں جو تائیوان کی حمایت کرتے ہیں۔اسوا ٹینی کو پہلے سوازی لینڈ کہا جاتا تھا۔چین اور تائیوان کے درمیان جھگڑا 1940 کے عشرے میں چین کی خانہ جنگی کے نتیجے میں اس وقت شروع ہوا جب چیانگ کائی شیک کی قوم پرست حکومت چین میں ماؤزے تنگ کے کمیونسٹوں کے مقابلے میں ہار گئی۔ اور اس نے جزیرہ تائیوان میں اپنی الگ حکومت قائم کر لی۔خیال رہے کہ بیجنگ تائیوان کو اپنا الگ ہو جانے والا صوبہ سمجھتا ہے جسے وہ اگر ضروری ہو تو بزور طاقت بھی واپس لینے کا خواہاں ہے۔


امریکہ میں رشوت کے الزام میں دو ججوں پر 20 کروڑ ڈالرز جرمانہ

ہیرسبرک ، 20اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی ریاست پنسلوانیا کی عدالت نے دو سابق ججوں مائیکل کوناہن اور مارک سیواریلا کو رشوت لینے کے جرم میں 20 کروڑ ڈالرز کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ریاست پنسلوانیا کے دو سابق ججوں کے خلاف کِڈز فار کیش‘ کیس میں بھاری رشوت لینے کے الزام کی سماعت ہوئی جس میں ملزمان پر 28 لاکھ ڈالرز رشوت وصول کرنے کا الزام ثابت ہوگیا۔

عدالت میں یہ ثابت ہوگیا کہ یہ رقوم دونوں ججوں نے بچوں کی منافع بخش جیلوں میں بچوں کو زبردستی بھیجنے کے عوض بطور رشوت وصول کیں۔ ان ججوں نے 8 سال عمر تک کے بچوں کو سخت سزائیں سنائی تھیں۔اس عدالتی اسکینڈل کے سامنے آنے پر دونوں ججوں مائیکل کوناہن اور مارک سیواریلا کو منصب سے برخاست کردیا گیا تھا اور سزائیں بھی دی گئی تھیں تاہم اب عدالت نے دونوں ججوں کو حکم دیا ہے کہ سیکڑوں متاثرین کو 20 کروڑ رقم بطور جرمانہ ادا کریں۔


سعود یہ کی برقع پوش گلوکارہ کو سوشل میڈیا پرصارفین کی سخت تنقید کا سامنا

ریاض ، 20اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب میں برقع پوش خاتون کی گانا ریکارڈ کراتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوئی جس پر اکثر صارفین نے کڑی تنقید کرتے ہوئے خاتون کو آڑے ہاتھوں لے لیا جب کہ کچھ نے خاتون کی ہمت افزائی بھی کی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سعودی عرب کے اداکار عبداللہ السدحان نے ویڈیو شیئر کی جس میں ایک برقع پوش خاتون کو گانا گاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ویڈیو کی کیپشن میں اداکار عبداللہ السدحان نے لکھا کہ آواز بہت خوبصورت ہے۔ اللہ آپ کی حفاظت کرے۔ یقینارزق کی تلاش مشکل ہے۔ آگے بڑھتے رہو چاہے جتنی مشکلات آئیں۔اس ویڈیو پر جہاں کئی صارفین نے خاتون کی تعریف کی وہیں اکثر سعودی شہریوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے برقع پوش گلوکارہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

خاتون کی حمایت کرنے والے صارفین نے لکھا کہ حجاب، برقع یا پردہ کسی بھی صلاحیت کے اظہار میں رکاوٹ نہیں۔ آپ ایک فنکار ہیں اور باپردہ ہوکر بھی اپنی آواز کا جادو جگا سکتی ہیں۔دوسری جانب تنقید کرنے والے ایک صارف نے لکھا کہ موسیقی اور گانا گانا مذہبی طور پر جائز نہیں۔ اگر روزی ہی کمانا ہے تو ایسا پیشہ اپناؤ جس پر سب کو آپ پر فخر ہو۔صارفین نے گلوگاری کے پیشے اور برقع کو دہرا معیار قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یا تو مکمل مذہب کی پاسداری کریں یا پھر ایک گلوکارہ جیسا بھیس اختیار کریں ، ایسا کرنا بہتر ہوگا۔


سلمان رشدی پر حملے کو عمران خان نے بلا جواز قرار دیا

لندن ، 20اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)برطانوی اخبار ’’گارجین‘‘ نے کہا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے ملعون رشدی پر چاقو سے حملہ کی مذمت کرتے ہوئے اخبار سے انٹرویو میں کہا ہے کہ مصنف کے خلاف مسلمانوں کا غصہ سمجھ میں آتا ہے لیکن حملے کا جواز نہیں بنتا۔ اخبار گارجین کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے دوران انٹرویو کہا کہ میرے خیال میں یہ خوفناک افسوسناک ہے۔ برطانوی اخبار گارجین کے مطابق عمران خان نے کہا کہ سلمان رشدی سمجھ گیا کیونکہ وہ ایک مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتا ہے‘ وہ ہمارے دلوں میں بسنے والے پیغمبر کی محبت احترام تعظیم کو جانتا ہے، وہ جانتا تھا لیکن جو ہوا اس کا جواز نہیں بنتا۔ خیال رہے کہ ملعون سلمان رشدی پر نیویارک میں ایک تقریب کے دوران حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوا۔

ڈاکٹرز کے مطابق ملعون سلمان رشدی کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ اخبار کے مطابق عمران خان نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ افغان خواتین اپنے حقوق کیلئے اصرار کریں گی ،کیونکہ افغان لوگ بڑے مضبوط لوگ ہیں تاہم اگر طالبان پر باہر سے دباؤ ڈالا گیا تو وہ اس کو پسند نہیں کرینگے۔ انٹرویو میں عمران خان نے اپنی شہرت کو ایک اعتدال پسند کے طور پر سامنے لانے کی خواہش ظاہر کی۔


چوری شدہ کتاب 50 سال بعد لائبریری کو واپس کر دی گئی

نیویارک، 20اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ میں چوری کی گئی ایک کتاب 50 سال بعد لائبریری کو واپس کر دی گئی۔ اوہائیو کی سنسناٹی پبلک لائبریری کے مطابق کتب خانے سے چرائی گئی تھی۔ مصنف ایڈگر رائس کی کتاب ٹارزن اینڈ ٹارزن ٹوئنز 50 سال بعد بذریعہ ڈاک لائبریری کو واپس بھجوائی گئی۔ کتاب کے ساتھ ایک رقہ بھی بھیجا گیا۔ جس میں نوٹ لکھا تھا میں اس کتاب کو واپس کر رہا ہوں جس کو 1973-1972 ء￿ میں درج کرائے بغیر لے جایا گیا تھا۔ اس وقت میں نوجوان تھا۔


تقسیم کے75 سال بعد پاک بھارت تعلقات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں؟

اسلام آباد ، 20اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تنازعات کے شکار پاک بھارت تعلقات کی بہتری کی جانب پیش رفت کا انحصار نہ صرف ان کی اعلی سیاسی قیادت پر ہے بلکہ دونوں ملکوں کے اہل فکرودانش کو ماضی کا جائزہ لے کر بہتر مستقبل کی راہ کی تلاش کرنے میں گفتگو کے ذریعہ اہم کردار ادا کنا چاہیے۔اس کے علاوہ دونوں جنوبی ایشیائی ایٹمی طاقتوں میں جنگ کے خطرے کے پیش نظر اور کشمیر اور دہشت گردی کے حل طلب مسائل کے تناظر میں عالمی برادری کو بھی خطے میں امن قائم کرنے کی خاطر پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں دلچسپی لینی چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان، بھارت اور امریکہ کے ماہرین کے درمیان واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ووڈروولسن کے زیر اہتمام ایک مباحثے میں کیا گیا۔ امیریکن یونیورسٹی میں ابن خلدون کے نام سے منسوب اسلامیات کے محکمہ کے چیئرمین پروفیسر اکبر احمد نے کہا کہ جب بھی دونوں ملک حکومتی سطح پر مذاکرات کرتے ہیں تو بھارت کی طرف سے پاکستانی سرزمین سے دہشت گردی اور پاکستان کی طرف سے کشمیر میں قتل عام اور فسطایت کے الزامات لگائے جانے سے بات چیت ناکام ہو جاتی ہے۔ ایسے میں سوچ و بچار رکھنے والے طبقوں کا کردار بہت بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل کی بہتری کو مد نظر رکھ کے ماضی کی غلطیوں کا جائزہ اور تعلقات میں بہتری کے لیے قابل عمل راہ دکھانی چاہیے۔ مثال کے طورپر انہوں نے کہا کہ خطے کی تہذیب بتاتی ہے کہ بھارت میں قدیم سنسکرت کے دور کے شانتی اور سیوا کے امن کے نظریات چلے آرہے ہیں جبکہ اسلام میں صوفیانہ سوچ صلح کل یعنی سب کے ساتھ امن کا نظریہ موجود ہے۔ ان دونوں کو اجاگر کرکے موجودہ حالات میں نفرت انگیز بیانیوں پر غالب آیا جاسکتا ہے تاکہ دونوں ہمسایہ ملک آنے والے وقت میں ایک متوازن سوچ کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔پروفیسر اکبر احمد نے جو برطانیہ میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں،

ان تجویز پیش کی کہ پاکستان اور بھارت کے اسکولوں میں قدیم بھارت کے شہنشاہ اشوکا، مغل شہنشاہ اکبر اعظم، جدید بھارت کے بانی مہاتما گاندھی اور پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کو ان کے صحیح تناظر میں پڑھایا جا نا چاہیے تاکہ ان تاریخی شخصیات کے بقائے باہمی کے نظریات کو سمجھا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہر وقت منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے پاکستان کی سرزمیں مہابھارت، بدھ مت، ، سکھ مذہب اور انڈس ویلی تہذیب کی وارث ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت میں اس بات کی آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیوں محمد علی جناح نے جو ہندو مسلم اتحاد کے سفیر تھے، مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک بنانے کا سوچا؟

انہوں نے کہا کہ بھارت میں امن اور صلح کی آواز اس لیے نمایاں نہیں ہے کیونکہ 1990 کی دہائی میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں شروع ہونے والی بغاوت کے بعد بھارت کو پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔نروپما راؤ، نیجو ووڈرو ولسن کے ایشیا پروگرم کے ایڈوائزری بورڈ کی ممبر بھی ہیں، کہا کہ کشمیر اور دہشت گردی کے مسائل نے عام بھارتی شہریوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے، لہٰذا یہ مسائل ان کے ذہنوں میں ہیں۔ یہ مسائل بھارتی سیاست میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا بھارت اور پاکستان طویل عرصے سے چلتے آرہے بڑے مسائل کو ایک طرف رکھ کے مذاکرات کی طرف لوٹ سکتے ہیں، نرپما راو نے کہا نئی دہلی دہشت گردی کے مسئلے کو پس پشت نہیں ڈال سکتا کیونکہ بھارت کو پاکستان کی ریاست ابھی تک انتہا پسندوں کے بارے میں اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب فراہم نہیں کر سکی۔


پاکستان میں ہزاروں صارفین انٹرنیٹ سے محروم

اسلام آباد، 20اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان میں انٹرنیٹ مہیا کرنے والے ایک اہم ادارے نے ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کے تناظر میں انٹرنیٹ کی عارضی بندش کی اطلاعات دی ہیں۔انٹرنیٹ مہیا کرنے والی سرکاری کمپنی پاکستان ٹیلی کمیونی کشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) کا کہنا ہے کہ ملک کے متعدد اہم شہروں سمیت کئی علاقوں میں انٹرنیٹ تک رسائی بندش کا شکار رہی، جس کی وجہ شدید بارشیں اور سیلابی صورت حال ہے۔ ٹیلی کام ریگولیٹرز کے مطابق وہ اس سلسلے میں تفتیش کر رہے ہیں۔پی ٹی سی ایل کی جانب سے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کا فائبر آپٹیک نیٹ ورک نقائص کا سامنا کر رہا ہے اور ملک کے شمالی اور وسطیٰ حصوں میں کئی مقامات پر انٹرنیٹ کی سہولت پر اس کا اثر پڑا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے، شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے پی ٹی سی ایل کا آپٹیکل فائبرنیٹ ورک کچھ تکنیکی مسائل کا شکار ہے۔ پی ٹی سی ایل کے مطابق ان مسائل کے خاتمے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پی ٹی سی ایل کے ان مسائل کا اثر دیگر کمپنیوں کر بھی پڑا ہے، جس میں موبائل فون ڈیٹا کی سہولت بھی شامل ہے۔ ناورے کی ٹیلی نور کمپنی کے پاکستانی باب ٹیلی نور پاکستان کے مطابق اسے انٹرنیٹ مہیا کرنے والے نیٹ ورک کے مسائل کی وجہ سے اس کا انٹرنیٹ نیٹ ورک بھی ڈاؤن ہے۔پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین نے دیگر ٹیلی کام اداروں سے متعلق بھی اسی طرز کی شکایات کی ہیں، تاہم دیگر کمپنیوں نے اس بابت کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد اور پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں فکسڈ لائن صارفین کے علاوہ موبائل ڈیٹا صارفین نے بھی انٹرنیٹ رسائی نہ ہونے کی بتایا ہے۔ دوسری جانب متعدد انٹرنیٹ صارفین نے پاکستان کے سب سے بڑے ٹیلی کمیونیکشن ادارے جیز سے متعلق کہا ہے کہ وہ بدستور فعال ہے۔ واضح رہے کہ جیز ایمسٹرڈیم سے تعلق رکھنے والے کمپنی ویون کی ملکیت ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کا نظام دیگر نیٹ ورکس کی بندش کی وجہ سے عام اوقات سے زیادہ ڈیٹا ٹریفک کا سامنا کر رہا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان بائیس کروڑ آبادی کا ملک ہے جہاں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔


کیلیفورنیا، 2 طیارے دوران لینڈنگ آپس میں ٹکرا گئے، 3 پائلٹ ہلاک

نیویارک، 20اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی ریاست کیلیفورنیا میں دو چھوٹے طیارے ائیر پورٹ پر لینڈنگ کے لیے آتے ہوئے آپس میں ٹکرانے سے تین افراد ہلاک ہو گئے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی کیلیفورنیا میں 2 طیاروں کے آپس میں ٹکرا نے کا واقعہ پیش آیا جس میں 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طیاروں کو حادثہ رن وے کے قریب ہی پیش آیا، ہوائی اڈے پر طیاروں کی اڑان بھرنے اور لینڈنگ کے حوالے سے براہ راست رابطہ کرنے کیلئے کنٹرول ٹاور موجود نہیں ہے۔انتظامیہ نے بتایا کہ دو انجن والے طیارے سیسنا 340 میں دو پائلٹ سوار تھے جب کہ سنگل انجن والے سیسنا 152 میں ایک پائلٹ سوار تھا۔نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے مطابق طیارے فضا میں آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوگئے اور طیاروں کا ملبہ ائیرپورٹ کے احاطے میں بکھر گیا، تباہ ہونے والے دونوں چھوٹے طیارے سیزنا کے مختلف ماڈلز تھے۔


اسرائیل کو فلسطینیوں کیخلاف 50 ہولو کاسٹ کا مرتکب قرار دینے پر اسرائیل خفا

برلن ، 20اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جرمنی کی پولیس نے فلسطینی صدر محمود عباس کے خلاف ہولو کاسٹ کا ذکر کرنے پر ایک انکوائری شروع کر دی ہے۔ اس پولیس انکوائری کا اعلان جمعہ کے روز کیا گیا ہے۔محمود عباس نے جرمنی کے حالیہ دورے کے موقع پر جرمن چانسلر کے ساتھ اپنی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم انسانی حقوق کی اسرائیلی کی طرف سے خلاف ورزیوں پر کہا تھا کہ اسرائیل 1947 سے اب تک ہم فلسطینیوں کے خلاف 50 ہولوکاسٹ کا ارتکاب کر چکا ہے۔ اس پر جرمن چانسلر اولف شولز نے کوئی فوری رد عمل نہیں دیا تھا، نہ کوئی تبصرہ کیا تھا۔

لیکن بعد ازاں جرمنی میں مختلف طبقات کی طرف سے سامنے آنے والی تنقید انہیں ایک ٹویٹ پر مجبور کر دیا ‘میں ان غصیلے تبصروں سے بیزار ہوں۔اب جمعہ کے روز جرمن پولیس نے بعض عوامی نوعیت کی شکایات پر محمود عباس کے خلاف انکوائری شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شکایات میں محمود عباس کو ‘ہولوکاسٹ سے رشتہ جوڑنے’ کے الزام کا ہدف بنایا گیا ہے۔جرمن پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس انکوائری کے دوران کوئی ایسی چیز سامنے آئی تو اسے جرمن پراسیکیوٹر کے سامنے رکھا جائے گا، پراسیکیوٹر ہی اس امرکا فیصلہ کرے گا کہ محمود عباس کی طرف سے جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے یا نہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے اس بارے میں کہا ہے کہ فلسطینی صدر اور تمام فلسطینیوں کی اس بارے میں اور اس سے متعلق تمام امور پر پوزیشن بڑی واضح ہے۔ترجمان نے کہا محمود عباس نے بدھ کے روزہولو کاسٹ کو جدید انسانی تاریخ میں ایک انتہائی سنگین جرم سے تعبیر کیا ہے انہوں نے اس کی نفی نہیں کی ہے۔ادھر اسرائیل میں بھی محمود عباس کی طرف سے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف ہولو کاسٹ کا مرتکب قرار دینے پر کافی غم وغصہ سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم یائر لیپڈ ودیگر نے اس بارے میں کافی سخت رد عمل دیا ہے۔

لبید نے محمود عباس کے اسرائیل پر ہولوکاسٹ کے ارتکاب یعنی فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا ذکر کرنے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ الزام جھوٹ پر مبنی ہے اور جرمنی میں کھڑے ہو کر یہ بات کرنا اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ جرمن کی وزارت کارجہ کے ترجمان نے اس معاملے میں کہا ہے کہ محمود عباس ہم سمجھتے ہیں کہ محمود عباس سفارتی پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں اور انہیں تحفظ حاصل ہیں کہ وہ جرمنی کے سرکاری دورے پر تھے اور فلسطینی اتھارٹی کے نمائندے کے طور پر جرمنی آئے تھے۔ترجمان نے یہ واضح کیا کہ جرمنی نے فلسطین کو ایک ملک کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے البتہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات موجود ہیں۔


روس زاپوریژیا جوہری پلانٹ کے آزادانہ معائنے پر رضامند

ماسکو ، 20اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ماسکو نے متنبہ کیا کہ یوکرین میں زاپوریژیا جوہری پلانٹ میں اب بھی ایسی تباہی کا امکان ہے، جس کے مضمرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔ اس دوران پوٹن نے جوہری پلانٹ کے آزادانہ معائنے کی اجازت دے دی ہے۔روس اور یوکرین دونوں ہی ایک دوسرے پر زاپوریژیا میں شیلنگ کے الزامات لگا رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں واقع یورپ کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ کی تباہی کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ اس دوران فرانسیسی صدر کے ساتھ بات چیت کے بعد صدر پوٹن نے روس کے زیر قبضہ یوکرینی زاپوریژیا جوہری پلانٹ کے آزادانہ معائنے کی اجازت دے دی۔

روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق روس کے قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نیکولائی پتروشیف نے تاشقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کی ایک میٹنگ سے خطاب کے دوران کہا کہ یوکرینی فوج امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے، جس کی وجہ سے زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ کی تباہی کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کوئی تباہی ہوتی ہے تو اس کے مضمرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے اور اس کی ذمہ داری واشنگٹن، لندن اور ان کے آلہ کاروں پر عائد ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زاپوریژیا جوہریی وکرین: یورپ کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ پر صورتحال ’کنٹرول سے باہر‘ پلانٹ کی تباہی کا نتیجہ چرنوبل جوہری پاور پلانٹ کی تباہی سے بھی زیادہ خطرناک اور بھیانک ہو گا۔روسی صدر ولادیمیر پوٹن جمعے کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں سے ٹیلی فون پربات چیت کے بعد آزاد معائنہ کاروں کی ٹیم کے ذریعے روس کے قبضے والے یوکرین کے زاپوریڑیا جوہری پلانٹ کا معائنہ کرانے پر رضامند ہو گئے۔فرانسیسی صدر کے دفتر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پوٹن نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے روس کے راستے یوکرین میں زاپویژیا جوہری پلانٹ جانے کی اجازت دینے کے مطالبے پر ازسر نو غور کیا اور آزاد معائنہ کاروں کی ٹیم کو وہاں جانے کی اجازت دے دی۔پوٹن نے اس سے قبل خود بھی کہا تھا کہ زاپوریژیا میں جاری جنگ ایک بڑی تباہی لا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button