بین الاقوامی خبریں

پابندیاں روسی معیشت کی جڑیں ہلا رہی ہیں: سروے

لندن،29 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ژیل یونیورسٹی کے محققین نے کہا ہے کہ مغربی پابندیوں سے روسی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچا ہے، بھلے ماسکو ان اثرات کو بہت کم بنا کر پیش کر رہا ہے۔روس پر لگائی گئی پابندیاں اس کی معیشت کو بْری طرح متاثر کر رہی ہیں، حالانکہ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ ان پابندیوں سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ بات امریکا کی ڑیل یونیورسٹی کی طرف سے کی گئی ایک نئی اسٹڈی سے معلوم ہوئی ہے۔اس اسٹڈی کے مرتبین کا کہنا ہے کہ ان کے کام سے ماسکو کے ان دعووں کی قلعی کھلتی ہے کہ اس کی معیشت بدستور مضبوط ہے اور یہ کہ مغربی ممالک اس معاشی جنگ کے سبب زیادہ مصیبت میں مبتلا ہیں۔

ژیل یونیورسٹی کے ماہرین نے روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کے بعد سے روسی اقتصادی سرگرمیوں کے ماپنے کے لیے پانچ ماہ کے دوران روس کی بین الاقوامی تجارت اور شپنگ پارٹنرز کے ڈیٹا اور دیگر معلومات کو استعمال کیا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ روس کی، ضروری اشیا کے برآمد کنندہ کی حیثیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے اسے یورپ کی بجائے اپنی مرکزی منڈیوں کے لیے بھی ایشیا کی طرف رْخ کرنا پڑا۔اس اسٹڈی کے مطابق روسی درآمدات بھی جنگ کے آغاز کے بعد سے زیادہ تر ختم ہو گئی ہیں اور یہ کہ ضروری ساز وسامان، پرزہ جات اور ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے اس ملک کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

اس اسٹڈی کی ٹیم کے مطابق روس کی داخلی پیداوار مکمل طور پر جمود کا شکار ہو گئی ہے اور اس کے پاس متاثر ہونے والے کاروباروں، مصنوعات اور ماہر افراد کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کی صلاحیت نہیں ہے۔ژیل یونیورسٹی کی طرف سے کرائی جانے والی تحقیق کے مطابق قریب ایک ہزار بین الاقوامی کمپنیوں کے روس چھوڑ دینے سے روس ایسی کمپنیوں سے محروم ہو گیا ہے جو مقامی پیداوار کا 40 فیصد پورا کر رہی تھیں۔رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن بنیادی اقتصادی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے بظاہر نہ پائیدار اور ڈرامائی مالیاتی اقدامات کی کوشش کر رہے ہیں اوریہ کہ روسی حکومت کا بجٹ پہلی مرتبہ خسارے میں چلا گیا ہے۔ کریملن کے مالی معاملات اس سے کہیں زیادہ بْری طرح متاثر ہیں جتنے عام طور پر خیال کیے جاتے ہیں۔


روس سے گیس کی سپلائی میں کمی، جرمنی کی اہم عمارتیں اندھیرے میں ڈوب گئیں

برلن،29 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یورپ میں توانائی کے بحران کے پیش نظر جرمنی کے دارالحکومت برلن میں تمام تاریخی مقامات کی روشنیاں رات کے وقت بجھا دی گئیںخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روس سے سپلائی ہونے والی گیس کی کمی سے نمٹنے اور بجلی بچانے کے لیے جرمنی میں قومی سطح پر مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔اسی سلسلے میں برلن میں واقع شارلوٹنگ محل اور سرکاری اوپراہ ہاؤس سمیت تقریباً 200 اہم عمارتوں کو رات کے اوقات میں تاریک رکھا جائے گا۔

برلن کے چیف افسر برائے ماحولیات بیٹینا جارسش نے کہا ہے کہ یوکرین کے خلاف جاری جنگ اور روس کی توانائی سے متعلق دھمکیوں کے تناظر میں ضروری ہے کہ ہم توانائی کے استعمال پر احتیاط برتیں۔گرین پارٹی کی رکن بیٹینا جارسش کے دفتر کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے 200 عمارتوں اور ان پر لگی ہوئی چودہ سو سپاٹ لائٹس کو آئندہ چار ہفتوں کے دوران بجھا دیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ پالیسی عارضی طور پر نافذ کی جا رہی ہے جس کے تحت روزانہ ایک سو سے 120 لائٹس بندی کی جائیں گی۔جرمنی کے صدر فرینک والٹر نے رواں ہفتے کہاں تھا کہ صدارتی محل کا بیرونی حصہ بھی تاریک رہے گا تاکہ عوام کے لیے مثال قائم کی جائے۔

گیس و بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے جرمن چانسلر نے توانائی کی بچت کے لیے قومی سطح پر مہم کا آغاز کیا ہے، جبکہ یورپی یونین نے بھی گیس کے استعمال میں کمی پر اتفاق کیا ہے۔یورپی یونین کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین جنگ کے دوران لگائی گئی معاشی پابندیوں کے ردعمل میں روس سردیوں کے موسم میں یورپ کو گیس کی سپلائی بند کر سکتا ہے۔جرمنی نے ایئر کنڈیشن کے کم سے کم اور پبلک ٹرانسپورٹ کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا ہے۔یوکرین جنگ سے پہلے جرمنی 55 فیصد قدرتی گیس روس سے لیتا تھا تاہم جون میں یہ مقدار کم ہو کر 35 فیصد ہو گئی ہے۔یورپ کا کہنا ہے کہ توانائی کے لیے روس پر انحصار کو ہی ماسکو ’ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button