ریاض، 15اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شزادہ محمد بن سلمان نے یوکرین کے لیے انسانی بنیادوں پر 400 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اعلان جمعہ کے روز شہزادہ محمد بن سلمان اور یوکرینی صدر کے درمیان فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد سامنے آیا ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے روس یوکرین جنگ کے بارے میں ہر اس کوشش کے لیے اپنی حمایت کا یقین دلایا جو لڑائی میں کمی لانے والی ہو۔یوکرین کے لیے سعودی امدادی پیکج یوکرینی شہریوں کی ان مشکلات اور مصائب میں کمی لانے کا ذریعہ بنے گا جو مشکلات روس یوکرین ٹکراو کی وجہ پیدا ہوئی ہیں۔یوکرینی صدر نے اس موقع پر شہزادہ محمد بن سلمان کو مملکت کے وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دی اور ان کا یوکرین کی مدد کرنے خصوصا اقوم متحدہ میں یوکرینی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے منظور کر دہ قرار داد کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
ولی عہد نے کہا ‘ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کردہ قرار داد کی سعودی حمایت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہماری مملکت اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتھ گہری کمٹمنٹ رکھتی ہے اور ہر ریاست کی خود مختاری کے علاوہ بین الاقوامی قوانین کا بھی احترام کرتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ تمام تنازعات کا حل پر امن طریقوں سے تنازعات کا حل چاہتی ہے۔
یوکرینی صدر کا ولی ٔ عہد محمد بن سلمان کے تشکر پر مبنی ٹویٹ
کیف؍لندن، 15اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی نے اپنے ٹویٹ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے اقوم متحدہ میں یوکرین کی خود مختاری و سلامتی کے حق میں ووٹ دینے اور روس کی طرف سے کرائے گئے ریفرنڈم کی مخالفت پر شکریہ ادا کیا ہے۔اپنے ٹویٹ میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ میری شہزادہ محمد بن سلمان ولی عہد سعودی عرب سے بات ہوئی ہے، میں نے ان کا شکریہ ادا کیا ہے کہ ان کی طرف سے یوکرین کی علاقائی سالمیت کی حمایت میں یو این قرار داد کی تائید کی گئی۔بدھ کے روز جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سعودی عرب سمیت 142 رکن ممالک نے یوکرین کی سلامتی و خود مختاری کے حق میں پیش کردہ قرار داد کے لیے ووٹ دیا۔
یہ قرارداد روس کی طرف سے یوکرین کے چار مختلف علاقوں میں ریفرنڈم کراکے انہیں اپنے ساتھ ملانے کا اعلان کے خلاف تھی۔ اس بارے میں سعودی عرب اقوام متحدہ میں نمائندے عبدالعزیز الواصل نے یوکرین کے حق میں ووٹ دینا اس امر کا اظہار ہے کہ سعودی عرب اقوم متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہر ملک کی سلامتی و خود مختاری کی حمایت کرتا ہے۔یوکرین صدر زیلنسکی نے اپنے ٹویٹ میں یہ بھی کہا ہے۔ ولی عہد سے بات چیت میں جنگی قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی دونوں ملک روسی قید میں یوکرینی قیدیوں کی رہائی کے لی کام کریں گے۔
خیال رہے سعودی ولی عہد اس سے پہلے بھی دو امریکی قیدیوں سمیت روس سے 10 جنگی قیدیوں کی رہائی کرا چکے ہیں۔یوکرینی لیڈر نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کی سعودی ولی عہد کے ساتھ سعودی عرب کی طرف سے یوکرین کے لیے مالی امداد پر بھی بات کی گئی ہے۔ ان کے مطابق ‘یہ امداد میکرو فنانشل کی صورت میں ہو گی۔وسری جان سعودی ولی عہد نے یوکرین کے لیے 400 ملین ڈالر کی امداد کا یوکرین کے لیے اعلان کیا ہے۔
یوکرین کیلئے725 ملین ڈالر کا ایک اور امریکی امدادی پیکیج تیار
نیویارک، 15اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کی جو بائیڈن انتظامیہ یوکرین کو فوری طور پر نئے امدادی پیکیج کے تحت 725 ملین ڈالر مالیت کا بارودی سامان اور جنگی گاڑیاں دے گی۔ تاہم دو امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس نئی امدادی کھیپ میں فضائی دفاعی نظام سے متعلق آلات نمایاں نہیں ہوں گے۔اس پیکیج کے عملی شکل اختیار کرنے کے بعد یوکرین کو اب تک امریکہ کی طرف سے دی گئی فوجی امداد کی مالیت 17،5 ارب ڈالر ہو جائے گی۔ امریکہ یوکرین کو یہ امداد 24 فروری کے بعد سے دے رہا ہے جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔امریکی حکام نے اس نئے امدادی پیکیج کے بارے میں بتایا یہ فوری بروئے کار ہو گا، نیز روس کی طرف سے یوکرین کے مختلف شہروں پر حالیہ بمباری کے بعد امریکہ کا پہلا امدادی پیکج ہو گا۔
ان امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک پیکیج کا حتمی طور پر اور باضابطہ اعلان نہیں ہو جاتا اس پیکیج کی مالیت اور اس میں شامل جنگی سامان میں تبدیلی یا اضافہ کمی ہو سکتی ہے۔امکانی طور پر یہ پیکیج پچھلے ہفتے یوکرین کو بھیجے گئے امدادی پیکیج سے مختلف ہو سکتا ہے۔ یاد رہے پچھلے ہفتے بھجوائے گئے امدادی پیکیج میں میزائل شامل تھے۔ وہ پیکیج روس کے میزائل حملوں کو جوابی شکست دینے کے لیے تیار کیا گیا تھا جس کے فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ یوکرین کو اسی ہفتے امریکہ اور جرمنی کی طرف سے جدید ترین طیارہ شکن نظام مل جائے گا، جس میں میزائل حملوں اور ڈرونز کا جواب دینے کی اہلیت بھی ہو گی۔
یہ امدادی پیکج صدر امریکہ کے خصوصی اختیار پریزیڈنشل ڈراڈاون اتھارٹی کے تحت دیا جارہا ہے۔ اس اختیار کے تحت صدر کو یہ اختیار ہے کہ فوری طور پر امریکی سٹاک میں سے کسی ملک کو فوجی امداد دے سکیں۔ اس اختیار کے تحت صدر کو کانگریس سے پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔یوکرین کے لیے امریکی مالی سال 2023 کے دوران یہ دوسرا پی ڈی اے پیکج ہو گا۔ یہ اختیار مجموعی طور پر امریکی صدر کو دسمبر کے وسط تک 3،7 ارب ڈالر کی فوجی امداد دوسرے ملکوں کو دینے کا اختیار دیتا ہے۔



