نیویارک،20ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور کے ایک جج نے پیر کے دن 1999 میں ہی من لی کے قتل میں عدنان سید کی سزا کو کالعدم قرار دینے کے بعد ان کی رہائی کا حکم دیاہے، یہ ایک ایسا کیس جسے ہٹ پوڈ کاسٹ سیریل میں پیش کیا گیا تھا۔استغاثہ کے حکم پر، سرکٹ کورٹ کی جج میلیسا فن نے حکم دیا کہ41 سالہ عدنان سعید کی سزا کو ختم کر دیا جائے۔ جنہوں نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارا ہے۔عدنان سید 18 سالہ لی کا گلا گھونٹ کر قتل کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔
لی کی لاش بالٹی مور کے ایک پارک میں دبائی گئی تھی۔جج میلیسا فن نے فیصلہ دیا کہ ریاست نے ایسے شواہد پیش کرنے کی اپنی قانونی ذمہ داری کی خلاف ورزی کی ہے جس سے عدنان کے دفاع کو تقویت مل سکتی تھی۔جج نے عدنان کو جی پی ایس لوکیشن مانیٹرنگ کے ساتھ گھر میں نظربند کرنے کا حکم دیا۔ جج نے یہ بھی کہا کہ ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا مقدمے کی نئی تاریخ مقرر کی جائے یا 30 دن کے اندر اندر کیس کو خارج کیا جائے۔سماعت ختم ہوتے ہی جج نے کہا کہ عدنان ، آپ اپنے خاندان کے ساتھ شامل ہونے کے لیے آزاد ہیں۔
اٹارنی رابعہ چوہدری عدنان سید کی بچپن کی دوست ہیں اور ان کی بے گناہی کے لیے آواز اٹھاتی آئی ہیں۔ وہ اور دیگر کی وکالت کی کوششیں عدنان کے کیس میں متعدد قانونی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔عدنان کی رہائی پر انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر عدنان کے ساتھ تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ایک انٹرویو میں رابعہ کا کہنا تھا کہ ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے، اور ہم خوش ہیں کہ وکلا استغاثہ کی ٹیم نے اس کیس کی حقیقت کو سمجھا جو کئی سالوں سے جاری تھا۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عدنان اپنے خاندان کے ہمراہ گھر آ رہے ہیں۔ اور گھر میں لوگوں سے بات کر رہے ہیں۔رابعہ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ نئی تحقیقات میں اس قتل میں ملوث شخص کو پکڑا جا سکے گا۔23 سال بعد عدنان سید کی رہائی کی خبر اس وقت خبروں پر چھائی ہوئی ہے۔ امریکہ کے اندر اور باہر عام لوگوں اور ممتاز شخصیات نے عدنان سید کی رہائی پر سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔



