جرائم و حادثات

پھانسی کی منتظر 7 افراد کے قتل کی مجرم شبنم رام پور جیل سے بریلی جیل منتقل

خواتین پولیس اہلکاروں کے ساتھ تصویر وائرل ہونے کے بعد کارروائی، دو کانسٹیبل معطل، شبنم کو سخت نگرانی میں بریلی جیل بھیجا گیا

رام پور: (اردودنیا.اِن) سات افراد کے قتل کیس میں سزائے موت کی منتظر مجرم شبنم کو رام پور ضلع جیل سے بریلی جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ جیل انتظامیہ نے یہ کارروائی اس وقت کی جب شبنم کی خواتین پولیس اہلکاروں کے ساتھ لی گئی تصاویر منظر عام پر آئیں، جس کے بعد محکمہ جیل نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سخت اقدامات کیے۔

رپورٹ کے مطابق شبنم کی تصاویر سب سے پہلے 24 فروری کو ایک مقامی ہندی اخبار میں شائع ہوئی تھیں، جن میں وہ رام پور جیل کی خواتین پولیس اہلکاروں کے ساتھ نظر آرہی تھی۔ تصاویر سامنے آنے کے بعد جیل انتظامیہ نے تحقیقات شروع کیں اور دو اہلکاروں کو معطل کردیا۔

معطل کیے گئے اہلکاروں میں خاتون کانسٹیبل ناہید بی اور مرد کانسٹیبل شعیب خان شامل ہیں، جو میاں بیوی ہیں۔ حکام کے مطابق جیل کے ضابطوں کی خلاف ورزی کے معاملے کی مزید جانچ بھی جاری ہے۔

شبنم کو 2008 میں اتر پردیش کے ضلع امروہہ کے باون کھیڑی گاؤں میں اپنے عاشق سلیم کے ساتھ مل کر اپنے ہی خاندان کے سات افراد کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ مقتولین میں اس کے والد شوکت علی، والدہ ہاشمی، بھائی انیس احمد، بھابھی انجم، بھائی رشید، بھانجی رابعہ اور 10 ماہ کا بھتیجا عرش شامل تھے۔

امروہہ کی عدالت نے جولائی 2010 میں شبنم اور سلیم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد میں الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ صدر جمہوریہ پہلے ہی شبنم کی ایک رحم کی درخواست مسترد کرچکے ہیں، جبکہ دوسری درخواست زیر غور بتائی جاتی ہے۔

تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ واردات کے وقت شبنم حاملہ تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے اہل خانہ سلیم سے اس کی شادی کے لیے تیار نہیں تھے، جس کے بعد دونوں نے مبینہ طور پر پورے خاندان کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔

شبنم نے 14 دسمبر 2008 کو جیل میں ایک بیٹے کو جنم دیا تھا۔ بچہ ابتدائی برسوں تک اس کے ساتھ جیل میں رہا، بعد ازاں 15 جولائی 2015 کو جیل سے باہر آنے کے بعد اسے شبنم کے کالج کے دوست عثمان سیفی کی نگرانی میں دے دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button