تلنگانہ کی خبریںجرائم و حادثات

نلگنڈہ : اسکول پرنسپل کے قتل کا سنسنی خیز انکشاف، دو نابالغ طالب علم گرفتار

پرنسپل کو 27 بار چاقو مار کر قتل،2.50 لاکھ روپے کی چوری کا انکشاف

نلگنڈہ، 19 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) تلنگانہ کے نلگنڈہ ضلع میں اسکول پرنسپل روپاریڈی کے بہیمانہ قتل کا پولیس نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے اسی اسکول کے دو 16 سالہ طالب علموں کو گرفتار کرلیا۔ دونوں ملزمان آپس میں دوست اور دسویں جماعت کے طالب علم ہیں۔ پولیس کے مطابق دونوں نے پرنسپل کے گھر میں موجود نقد رقم لوٹنے کے لیے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی اور واردات کے دوران پرنسپل کو چاقو کے متعدد وار کرکے قتل کردیا۔

پولیس کے مطابق دونوں طالب علم کونڈاملے پلی منڈل کے پھول سنگھ تانڈہ اور پیلیا تانڈہ کے رہنے والے ہیں۔ دونوں روپاریڈی کی زیر نگرانی چلنے والے اسکول میں دسویں جماعت میں زیر تعلیم تھے اور ہاسٹل میں مقیم تھے۔ پرنسپل نے دونوں کو سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور دیگر بری عادتوں میں مبتلا پایا تھا۔ ایک موقع پر ان کے پاس سے رقم اور موبائل فون بھی برآمد ہوا تھا، جس کے بعد والدین کو طلب کرکے ان کی موجودگی میں سرزنش کی گئی۔ ان میں سے ایک طالب علم کو ہاسٹل سے نکال دیا گیا تھا اور اسے روزانہ گھر سے اسکول آنے جانے کی ہدایت دی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے بعد دونوں طالب علموں کے دل میں پرنسپل کے خلاف ناراضی پیدا ہوگئی۔ دونوں مبینہ طور پر عیش و عشرت کے عادی تھے اور کم وقت میں زیادہ رقم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے پرنسپل کے گھر میں چوری کا منصوبہ بنایا۔ چونکہ اسکول میں فیس وصولی کا عمل جاری تھا، اس لیے انہیں یقین تھا کہ پرنسپل کے گھر میں بڑی مقدار میں نقد رقم موجود ہوگی۔

پانچ دن پہلے بنایا قتل اور چوری کا منصوبہ

پولیس کے مطابق دونوں نے واردات سے تقریباً پانچ دن قبل منصوبہ تیار کیا اور پرنسپل کے گھر کے اطراف کئی مرتبہ ریکی کی۔ مبینہ طور پر انہوں نے سوشل میڈیا پر آسانی سے پیسہ کمانے، قتل کے طریقوں اور واردات کے بعد پولیس سے بچنے کے طریقوں سے متعلق معلومات بھی تلاش کیں۔

11 اگست کی شام دونوں طالب علم پرنسپل کے گھر پہنچے۔ وہ ماسک، دستانے اور دیگر کپڑوں کے ساتھ آئے تھے، جبکہ بعد میں ایک چاقو بھی خریدا گیا۔ ایک طالب علم گھر کے قریب پانی کی ٹنکی کے پاس نگرانی کرتا رہا، جبکہ دوسرا گھر کی پچھلی جانب سے دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوگیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کچن کے راستے گھر میں داخل ہوا، جہاں پرنسپل روپاریڈی نے اسے دیکھ لیا۔ شناخت ظاہر ہونے کے خوف سے ملزم نے مبینہ طور پر پرنسپل پر چاقو سے حملہ کردیا اور انہیں 27 مرتبہ چاقو مار کر قتل کردیا۔ اس کے بعد بیڈ روم میں موجود تقریباً 2.50 لاکھ روپے نقد لے کر دونوں وہاں سے فرار ہوگئے۔

واردات کے بعد ملزمان نے پرنسپل کا موبائل فون بند کرکے گھر کے قریب ایک چٹان کے نیچے رکھ دیا۔ واردات کے دوران پہنے گئے کپڑے بھی بعد میں تبدیل کرکے پھینک دیے گئے تاکہ پولیس کو کوئی سراغ نہ مل سکے۔

آخری لفظ ’بابو‘ بنا اہم سراغ

پولیس کے مطابق قتل سے کچھ دیر قبل پرنسپل نے فون پر اپنی ایک قریبی رشتہ دار سے بات کی تھی۔ گفتگو کے دوران ان کے منہ سے آخری بار ’بابو‘ کا لفظ نکلا، جس کے فوراً بعد فون بند ہوگیا۔ پولیس نے اس معمولی دکھائی دینے والے سراغ کو بھی اہمیت دیتے ہوئے تفتیش آگے بڑھائی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ پرنسپل نے ’بابو‘ کس شخص کے لیے کہا تھا۔

تحقیقات کے دوران اسکول دوبارہ کھلنے کے بعد غیر حاضر رہنے والے طلبہ پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ پولیس نے ایسے طلبہ کی تفصیلات حاصل کیں جو مسلسل دو دن سے اسکول نہیں آرہے تھے۔ اس دوران دسویں جماعت کے دونوں طالب علم پولیس کے شک کے دائرے میں آئے۔

پولیس کے مطابق دونوں کی سرگرمیوں اور ان کے اخراجات پر بھی نظر رکھی گئی۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ دونوں اچانک رقم خرچ کر رہے تھے، جس کے بعد پولیس کا شبہ مزید مضبوط ہوگیا۔

70 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج، 80 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ

کیس کی تفتیش کے لیے پولیس نے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔ ٹیموں نے تقریباً 70 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور 80 سے زائد مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی۔ موبائل فون کی تفصیلات، سی سی ٹی وی فوٹیج، تکنیکی شواہد اور دیگر ذرائع سے حاصل معلومات کو یکجا کرنے کے بعد پولیس دونوں طالب علموں تک پہنچ گئی۔

19 اگست کی صبح دونوں مشتبہ طالب علموں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی۔ پولیس کے مطابق ایک طالب علم کے قبضے سے تقریباً 1.54 لاکھ روپے نقد اور ایک آئی فون برآمد ہوا۔ رقم کے بارے میں پوچھے جانے پر اس نے ابتدا میں مختلف وضاحتیں پیش کیں، تاہم پولیس کو بعض نوٹوں پر خون کے دھبے بھی نظر آئے۔ رقم کو فرانزک جانچ کے لیے بھیجا گیا۔

پولیس کے مطابق فرانزک جانچ اور دیگر شواہد سامنے آنے کے بعد دونوں سے مزید پوچھ گچھ کی گئی، جس کے دوران پرنسپل کے قتل اور گھر سے نقد رقم چوری کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔

پولیس نے ملزمان کے قبضے سے تقریباً 1.54 لاکھ روپے نقد، پرنسپل کا آئی فون، موبائل فون، واردات میں استعمال کیا گیا چاقو، دستانے، ماسک اور دیگر موبائل فون برآمد کیے ہیں۔

نلگنڈہ کے ایس پی شرت چندر پوار نے بتایا کہ کیس کے مختلف پہلوؤں کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ دونوں ملزمان کی عمر 16 سال ہونے کے باعث انہیں جووینائل جسٹس بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ پولیس نے کیس کو تکنیکی اور سائنسی شواہد کی مدد سے حل کرنے والی ٹیموں کی کارکردگی کی بھی ستائش کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button