مقبوضہ بیت المقدس ،19فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی حکومت کی انتقامی پالیسیوں اور زبردستی انخلا کے شکار الشیخ جراح Sheikh Jarrah محلے میں بڑی تعداد میں شہریوں نے اظہار یکجہتی کے طورپر وہاں پر جمعہ کی نماز ادا کی۔ خطبہ جمعہ کے دوران شیخ عکرمہ صبری نے اس بات پر زور دیا کہ ناانصافی کی بدترین صورتیں مسلمانوں کی زمینوں اور گھروں کی چوری اور ڈکیتی ہیں ،
انہیں زبردستی ان سے بے دخل کرنا اور ان پر حملہ کرنا ہے اور یہ تماشہ فلسطین میں قابض اسرائیلی ریاست کی طرف سے جاری ہے۔الشیخ صبری نے کہا کہ الشیخ جراح ایک تاریخی محلہ اور مقدس سرزمین ہے،جو تمام مسلمانوں کی گردنوں میں امانت ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ الشیخ جراح کے لوگ القدس کا حصہ ہیں اور یروشلم ان کا حصہ ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیت المقدس خصوصاً الشیخ جراح میں مسجد اقصیٰ کے لیے ثابت قدمی سب سے زیادہ ہے اور اہل محلہ کے استقامت کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دی۔
جمعہ کی نماز درجنوں شہریوں اور یکجہتی کے کارکنوں کی موجودگی میں ادا کی گئی۔ اس موقعے پر قابض افواج اور محلے میں آباد کاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی۔
اس سے پہلے، اسرائیلی کنیسٹ کے رکن ایتمار بن گویر نے قابض ریاست کے ڈپٹی میئر آریہ کنگ کے ہمراہ محلے پر دھاوا بولا اور وہ اس خیمے کے پاس کھڑے ہوگئے جو بن گویر نے سالم خاندان کی زمین پر کھڑا کیا تھا۔
اس موقعے پر قابض فوج اور پولیس نے انہیں فول پروف سیکیورٹی فراہم کر رکھی تھی۔



