بین الاقوامی خبریں

امریکہ میں بچوں کے فارمولا دودھ کی قلت، سپلائی بڑھانے کی کوششیں

نیویارک ،13مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکہ میں شیر خوار بچوں کے لیے دستیاب فارمولا دودھ کی قلت کے باعث والدین شدید پریشان ہیں اور حکومت نے بھی اس کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق فارمولا دودھ کی قلت کا مسئلہ کرونا وبا سے سپلائی چین متاثر ہونے اور حفاظتی طور پر فارمولا دودھ کی مارکیٹ سے واپس منگوائے جانے کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ اس مسئلے نے کئی طرح کے اثرات مرتب کیے ہیں۔

فارمولا دودھ کی قلت سے گھبرا کر والدین نے اپنے شیر خوار بچوں کے لیے آن لائن گروپس بنالیے ہیں جن کے ذریعے وہ ایک دوسرے سے فارمولے کا تبادلہ کرتے ہیں اور اسے فروخت بھی کرتے ہیں۔امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو ملک بھر میں فارمولا دودھ کی قلت کے بارے میں اپنی انتظامیہ کے ردِعمل میں تیزی لاتے ہوئے مختلف کمپنیوں کے رہنماؤ ں سے تبادلہ خیال کیا کہ فارمولا دودھ کی دستیابی کوکیسے یقینی بنایا جائے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر بائیڈن نے گربر اور ریکٹ نامی کمپنیوں کے سربراہان سے بات کی کہ وہ کس طرح فارمولا کی پیداوار کو بڑھا سکتے ہیں اور اس سلسلے میں حکومت ان کی کس طرح مدد کر سکتی ہے۔بائیڈن نے ‘وال مارٹ’ اور ٹارگٹ اسٹورز کی کمپنیوں کے رہنماؤں سے بھی بات کی کہ کس طرح شیلف میں فارمولا دودھ کی سپلائی کو بحال کیا جائے اور دور دراز علاقوں تک دودھ کی رسائی کو کیسے یقینی بنایا جائے۔اے پی کے مطابق بائیڈن حکومت فارمولا دودھ کی ممکنہ قیمتوں میں اضافے کی نگرانی کرنے اور میکسیکو، چلی، آئرلینڈ اور ہالینڈ میں تجارتی شراکت داروں کے ساتھ درآمدات پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،

حالاں کہ بچوں کے لیے 98 فی صد فارمولا دودھ مقامی طور پر بنایا جاتا ہے۔خوردہ فروش اسٹورز نے گاہکوں کی خرید کو محدود کردیا ہے جب کہ ڈاکٹر اور ہیلتھ ورکرز والدین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں فوڈ بینکوں یا ڈاکٹروں کے دفاتر سے رابطہ کریں۔اس کے علاوہ ماہرینِ صحت نے لوگوں کو فارمولا دودھ کی سپلائی بڑھانے کی خاطر پانی کے زیادہ استعمال سے اسے پتلا کرنے یا آن لائن ترکیبیں استعمال کرنے کے خلاف انتباہ بھی کیا ہے۔خیال رہے کہ آلودگی کے خدشات کی وجہ سے فارمولا بنانے والی ایبٹ کمپنی نے فارمولا دودھ کو مارکیٹ سے ہٹا لیا ہے جس کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے خاندانوں پر پڑا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button