
کولمبو، 27جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بدترین معاشی بد حالی سے دوچار ملک سری لنکا نے خواتین کے لیے بیرون ملک کام کرنے کی اجازت دے دی۔ کولمبو نے 2013 ء میں بیرون ملک کام کرنے والی خواتین پر ایک خاص عمر کی پابندی لگائی تھی۔معاشی بد حالی سے دو چار سری لنکا میں اب خواتین کے بیرون ملک جاکر کام کرنے کی عمر21 برس طے کر دی گئی ہے جو پہلے 23 سال سے زائد طے تھی۔ یہ فیصلہ معیشت کی بد ترین صورتحال کے پیش نظر کیا گیا تاکہ بیرون ملک سے آنے والے ڈالرز سری لنکا کی گرتی ہوئی معاشی حالت کو سہارا دے سکیں۔
کولمبو نے 2013میں بیرون ملک کام کرنے والی خواتین پر عمر کی پابندیاں اس وقت لگائی تھیںجب سعودی عرب میں ایک 17 سالہ سری لنکن آیا کا سر قلم کر دیا گیا تھا کیونکہ اس کی نگرانی میں ایک بچے کی موت ہوئی تھی۔ سری لنکا کی جانب سے اس کم سن سری لنکن خاتون کی پھانسی پر برہمی کے بعد سری لنکن خواتین کو 23 سال سے عمر میں بیرون ملک جا کر کام کرنے کی اجازت نہیں تھی جب کہ سعودی عرب جاکر کام کرنے والی خواتین کے لیے کم از کم عمر 25 سال مقرر کی گئی تھی۔لیکن سری لنکا نے بدترین معاشی بحران کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے قوانین میں ترمیم کی ہے۔
ان نئے قوانین کا اطلاق سعودی عرب کے لیے بھی ہے۔ ترجمان بندولا گناوردانہ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزرا کی کابینہ نے غیر ملکی روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت کے پیش نظر تمام بیرونی ممالک میں کام کرنے والی خواتین کے لیے کم از کم عمر 21 سال کرنے کے فیصلے کی منظوری دے دی ہے۔بیرون ملک کام کرنے والے سری لنکن شہریوں کی جانب سے ترسیلات زر طویل عرصے سے ملک کی معشیت میں زرِ مبادلہ کی اضافے کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ملک کو ہر سال بیرون ملک سے تقریباً 7 بلین ڈالر موصول ہوتے ہیں۔
یہ تعداد 2021 میں کورونا وائرس وبائی امراض کے دوران 5.4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی اور اقتصادی بحران کی وجہ سے اس سال 3.5 بلین ڈالر سے کم ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔22 ملین نفوس پر مشتمل اس قوم کے 1.6 ملین سے زائد افراد بیرون ملک کام کرتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ مشرق وسطیٰ میں مقیم ہیں۔ اس جنوبی ایشیائی ملک کی غیر ملکی کرنسی کے ذخائر اتنے کم ہیں کہ حکومت نے اشیائے خورد و نوش، ایندھن اور ادویات سمیت اشیائے ضرورت کی درآمد پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔



