نیویارک، 13اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) شنگھائی چین کا ایک گنجان آباد شہر ہے اوردنیا کے نقشے پر ایک متمول شہرکی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتا ہے۔ مگر چین میں کووڈ 19 کے خلاف قطعاً رعایت نہ کرنے یا زیرو کووڈ پالیسی پر عملدرآمد کے طریقے یہاں زندگی میں ناگواری کا عنصر بڑھاتے جا رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ ڈھائی کروڑ آبادی کے اس شہر میں لوگوں کے کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کے بعد شنگھائی کے حکام نے 28 مارچ کو شہر میں عارضی لاک ڈاؤن عائد کر دیا۔ پھر دو اپریل کو متاثرہ بچوں کو والدین سے علیحدہ کرنے کی پالیسی کا آغاز ہوا اور 5ا پریل کو لاک ڈاؤن غیر معینہ مدت کے لیے عائد کردیا گیا۔
تاہم، والدین کے احتجاج کے بعد بچوں کو والدین سے جدا کرنے کی پالیسی 6 اپریل کو ختم کر دی گئی۔ اسی دوران 8 اپریل کے اندازے کے مطابق روزانہ کیسز کی تعداد 22,000 تک پہنچ گئی۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں شہریوں کو حفاظتی لباس میں ملبوس صحتِ عامہ کے ملازمین کیخلاف مزاحمت کرتے دکھایا گیا اور کچھ مناظر شہریوں کے جبری کووڈ ٹیسٹ کے بھی نظر آئے۔ اسی دوران ڈرونز، جنہیں سرکاری خیال کیا جا رہا ہے، رہائشی علاقوں میں نگرانی کرتے رہے تاکہ لوگ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی نہ کر سکیں۔
مقامی حکام نے بتایا ہے کہ انفیکشنز کی حالیہ لہر جو بی اے۔2 ویرئینٹ کی وجہ سے ہے، 73,000لوگوں کو متاثر کر چکی ہے لیکن یہ اتنی مہلک نہیں ہے اور شہر میں کسی کی ہلاکت کی خبر بھی نہیں ملی ہے۔ایک دوسری رپورٹ میں شنگھائی میں سخت لاک ڈاؤن کے دوران شہریوں کی مشکلات اور حکام کی جانب سے لوگوں کو مہیا کردہ صحت کی سہولتوں کی تفصیل بیان کی ہے۔
شنگھائی کے لین گینگ فان کائی ہسپتال نے 5اپریل کو 14,00 بستروں کا انتطام کر دیا تھا۔ تاہم اس میں سے نصف خالی پڑے ہیں۔ اسی دوران حکام نے نیشنل ایگزیبشن اینڈ کنونشن سنٹر کو عارضی ہسپتال میں تبدیل کر دیا ہے جہاں 40,000سے زیادہ بستر ہیں۔
تاہم چین کی نائب وزیرِ اعظم سن چن لین نے 2 اپریل کو شہر کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کی زیرو کووڈ پالیسی پر عمل جاری رہے گا۔اسی دوران امریکی محکمہ خارجہ نے شنگھائی میں امریکی قونصل خانے سے اپنے عملے کے ان ارکان کو شہر چھوڑنے کے لیے کہا ہے جن کی وہاں موجودگی لازمی نہیں ہے۔



