ابو ظبی ،10اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان Hossein Amir Abdollahian نے اپنے اماراتی ہم ہم منصب عبداللہ بن زاید آل نھیان نے خطے میں اسرائیلی دشمن کی مومودگی پر سخت الفاظ میں تنبیہ کی ہے۔
ان کا اشارہ متحدہ عرب امارات United Arab Emirates کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی طرف تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ نے اپنے اماراتی ہم منصب سے ٹیلیفون پر بات کی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان شام، مقبوضہ فلسطین کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت، ویانا مذاکرات، دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ صہیونی ہیں اس وقت بھی خطے میں امن و استحکام کی تباہی کا بنیادی محرک ہیں۔
صہیونیوں کی خطے میں موجودگی پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔بحران پیدا کرنے والے صہیونی عناصر کو خطے میں قدم جمانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ امیر عبداللھیان نے کہا کہ انہوں نے اماراتی وزیرخارجہ سے بات کرتے ہوئے ان پردونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری لانے کے اقدامات اور وفود کے تبادلے کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
دوسری جانب اماراتی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانا ابو ظبی کے اور تہران دونوں کے مفاد میں ہے۔
ایران کے صدر کا جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

تہران ،10اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کے عہد کا اعادہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب تہران کے جوہری معاہدے سے متعلق عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سنیچر کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے قومی دن کی تقریب سے خطاب میں صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ان کی حکومت پرامن جوہری ٹیکنالوجی پر تحقیق کے فروغ کی حمایت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوہری میدان میں ہم نے جتنا بھی علم اور ٹیکنالوجی حاصل کی وہ پلٹایا نہیں جا سکتا۔ایران کی پرامن جوہری شعبے میں تحقیق دوسروں کے مطالبات اور نظریات پر منحصر نہیں ہوگی۔خیال رہے کہ صدر رئیسی کا بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب 2015 کے جوہری معاہدے پر ویانا میں شروع ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
تقریب کے دوران ایران نے اپنی سول جوہری کامیابیوں کا مظاہرہ کیا جس میں کئی طبی آئیسو ٹوپ، زرعی کیڑے مار ادویات، زہر آلود مواد سے پاک کرنے کے آلات اور جوہری ایندھن کا مواد شامل ہے۔
ایران کی سولین اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا کہ ایران جلد ہی نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کروائے گا جس سے 360 میگاواٹ بجلی حاصل ہو سکے گی۔جنوب مغربی صوبے میں تعمیر ہونے والا یہ پاور پلانٹ اسلامی انقلاب سے پہلے سال 1979 میں فرانس کی مدد سے تعمیر ہونا تھا لیکن یہ منصوبہ شروع کے مراحل میں ہی روک دیا گیا۔
ایران سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر تہران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا تعاقب کرنا چاہے تو ممکنہ طور پر وہ ہتھیار بنانے کے قریب ہے۔ چار سال قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر واشنگٹن جوہری معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا اور ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ اس دوران ایران اپنی جوہری سرگرمیاں وسیع پیمانے پر پھیلانے میں کامیاب ہوا۔
ایران نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔دوسری جانب ایران نے سنیچر کو مزید امریکی عہدیداروں پر علامتی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔سولہ افراد کی اس فہرست میں اعراق میں تعینات امریکی فوج کے سابق کمانڈر جارج ویلیم کیسی، سینٹکام کے سابق کمانڈر جوزیف ووٹل، افغانستان میں امریکی فوج کے سابق کمانڈر آسٹن سکاٹ ملر، لبنان میں امریکی سفیر ڈوروتھی شی اور ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر سابق عہدیدار شامل ہیں۔
جنوری میں ایران نے 50 سے زائد امریکیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ سال 2021 میں ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو سمیت دیگر آٹھ شخصیات پر پابندیاں لگائی تھیں۔



