سرورققومی خبریں

عصمت دری اور جنسی ہراسانی کے مقدمات: سپریم کورٹ نے ججوں کے لیے نئی زبان کی گائیڈ لائن جاری کر دی

ریپ کیسز میں 'عفت' اور 'بے بس عورت' جیسے الفاظ سے گریز کریں، سپریم کورٹ کی ججوں کو ہدایت

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے عصمت دری، جنسی ہراسانی اور جنسی تشدد سے متعلق مقدمات کی سماعت اور فیصلے تحریر کرنے والے ججوں کے لیے نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ایسے حساس مقدمات میں فیصلے لکھتے وقت ایسی زبان سے مکمل گریز کیا جائے جو متاثرہ فرد کو موردِ الزام ٹھہراتی ہو یا صنفی تعصبات کی عکاسی کرتی ہو۔ عدالت کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلوں میں متاثرہ کے وقار، آئینی حقوق اور انسانی احترام کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

یہ رہنما اصول سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس انیرودھ بوس کی سربراہی میں قائم خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ "Judgments and Gender: Sensitivity and Compassion in Writing Judgments” کے عنوان سے تیار کی گئی اس رپورٹ میں ملک بھر کی ٹرائل عدالتوں کے 125 فیصلوں کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد عدالتی زبان اور طرزِ استدلال میں بہتری کے لیے متعدد سفارشات پیش کی گئیں۔

رپورٹ میں ججوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فیصلوں میں "پراسیکیوٹرکس”، "بے بس عورت”، "عفت کھو دی”، "حدیں پار کیں” جیسے الفاظ استعمال نہ کریں، کیونکہ ایسی اصطلاحات سماجی تعصبات کو تقویت دیتی ہیں اور متاثرہ کو دوبارہ ذہنی اذیت پہنچا سکتی ہیں۔ اس کے بجائے متاثرہ، شکایت کنندہ، جنسی زیادتی کا شکار شخص، سروائیور (Survivor) اور جسمانی خودمختاری جیسی قانونی اور غیر جانبدار اصطلاحات اختیار کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

کمیٹی نے مزید کہا کہ "بے چاری نابالغ لڑکی”، "ہوس کا شکار”، "ناجائز ہوس پوری کرنا” یا "زندگی برباد کر دی” جیسے جذباتی اور اخلاقی رنگ رکھنے والے الفاظ سے بھی اجتناب کیا جائے، کیونکہ عدالتی فیصلوں کا مقصد جرم اور اس کے قانونی اثرات کا جائزہ لینا ہے، نہ کہ اخلاقی تبصرہ کرنا۔

رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ عدالتی استدلال رضامندی (Consent)، انسانی وقار، جسمانی خودمختاری اور آئینی حقوق جیسے بنیادی اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔ کمیٹی کے مطابق صرف اس بنیاد پر کسی متاثرہ کے بیان پر شک نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے ایف آئی آر درج کرانے میں تاخیر کی، مزاحمت نہیں کی یا اس کے جسم پر واضح زخم موجود نہیں تھے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ عوامل رضامندی کا ثبوت نہیں ہوتے اور ہر متاثرہ کے حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ججوں کو یہ بھی متنبہ کیا ہے کہ وہ متاثرین کے رویے کے بارے میں روایتی یا قدامت پسندانہ تصورات کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنے سے گریز کریں۔ اسی طرح عدالت نے سفارش کی ہے کہ جہاں رضامندی موجود نہ ہو یا متاثرہ نابالغ ہو، وہاں واقعے کو "جسمانی تعلق” قرار دینے کے بجائے "عصمت دری”، "جنسی حملہ” یا "جنسی تشدد” جیسی درست قانونی اصطلاحات استعمال کی جائیں۔

رپورٹ میں "ہوس” جیسے الفاظ کے استعمال سے بھی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق ایسے الفاظ بعض اوقات جنسی جرائم کو فطری خواہش کا نتیجہ ظاہر کرتے ہیں، جس سے جرم کی سنگینی کم محسوس ہونے لگتی ہے، جبکہ حقیقت میں ایسے جرائم طاقت کے ناجائز استعمال اور حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق ہوتے ہیں۔

خصوصی کمیٹی نے عدالتوں میں ہونے والی جرح کے حوالے سے بھی اہم سفارشات پیش کی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جج اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرہ سے اس کی سابقہ جنسی زندگی، لباس، طرزِ زندگی یا کردار سے متعلق غیر ضروری اور توہین آمیز سوالات نہ پوچھے جائیں، کیونکہ ایسے سوالات نہ صرف غیر متعلق ہوتے ہیں بلکہ متاثرہ کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں کسی خاتون کے لباس یا ظاہری انداز کو اس کے کردار یا شائستگی کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی لیے عدالتوں کو ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں متاثرین کو احترام، تحفظ اور اعتماد کے ساتھ اپنی بات رکھنے کا موقع مل سکے۔

واضح رہے کہ یہ خصوصی کمیٹی 10 فروری 2026 کو سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد تشکیل دی گئی تھی۔ عدالت نے اس وقت ہدایت دی تھی کہ جنسی جرائم اور دیگر حساس مقدمات کی سماعت کرنے والے ججوں کے لیے ایسے جامع رہنما اصول تیار کیے جائیں جو عدالتی نظام میں صنفی حساسیت، ہمدردی اور غیر جانبداری کو مزید مضبوط بنا سکیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button