شادی سے قبل رضامندی پر مبنی تعلقات غیر اخلاقی نہیں، سپریم کورٹ
شادی سے پہلے رضامندی سے تعلقات کسی شخص کے کردار پر منفی فیصلہ کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتے
نئی دہلی 08 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ شادی سے پہلے دو بالغ افراد کے درمیان رضامندی سے قائم جسمانی تعلقات کو کسی شخص کے اخلاقی کردار کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے تعلقات کو ’’اخلاقی پستی‘‘ یا ’’بے کردار ہونے‘‘ کی علامت قرار دینا مناسب نہیں۔
جسٹس منوج مشرا اور جسٹس منموہن پر مشتمل بنچ نے یہ فیصلہ تلنگانہ پولیس کانسٹیبل بھرتی سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سنایا۔
مقدمے کے مطابق امیدوار گجولا تروپتی کو پولیس کانسٹیبل کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اس کی امیدواری منسوخ کر دی گئی۔ بھرتی بورڈ کے مطابق امیدوار ایک سابق فوجداری مقدمے میں ملزم رہ چکا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے ایک خاتون سے شادی کا وعدہ کرکے کئی برس تک تعلق قائم رکھا لیکن بعد میں کسی اور سے شادی کر لی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ معاملہ 2015 میں لوک عدالت کے ذریعے تصفیے پر ختم ہو گیا تھا۔ امیدوار نے بھرتی کے دوران اپنے تصدیقی فارم میں اس مقدمے کی مکمل تفصیلات خود فراہم کی تھیں اور اس پر حقائق چھپانے کا کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔
اس کے باوجود ریکروٹمنٹ بورڈ نے اسے ’’اخلاقی پستی‘‘ کے زمرے میں رکھتے ہوئے پولیس سروس کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آجر امیدوار کی اہلیت اور موزونیت کا جائزہ لینے کا اختیار رکھتے ہیں، لیکن یہ اختیار من مانی انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں بھرتی بورڈ نے یہ فرض کر لیا تھا کہ لوک عدالت میں ہونے والا تصفیہ اعتراف جرم کے مترادف ہے، حالانکہ اس دعوے کی تائید کے لیے کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی مشاہدہ کیا کہ موجودہ دور میں شادی سے پہلے رضامندی سے تعلقات ایک سماجی حقیقت ہیں اور صرف اسی بنیاد پر کسی فرد کے کردار کے بارے میں منفی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ عدالت کے مطابق دو غیر شادی شدہ بالغ افراد اگر باہمی رضامندی سے تعلق قائم کرتے ہیں تو ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو انہیں اس سے روکتا ہو۔
بنچ نے مزید کہا کہ ہر محبت کا رشتہ لازمی طور پر شادی پر منتج نہیں ہوتا۔ اگر کسی تعلق کا اختتام شادی پر نہ ہو تو محض اسی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ایک فریق نے دوسرے کو دھوکہ دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے آخر میں امیدوار کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ریکروٹمنٹ بورڈ کی اسکریننگ کمیٹی کے فیصلے کو من مانی قرار دیا اور ر ریاست تلنگانہ کی ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے امیدوار کی تقرری کے معاملے پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت جاری کی۔



