بین الاقوامی خبریںسرورق

تہران میں دھماکوں سے بے چینی، اسرائیل نے حملے سے لاتعلقی ظاہر کردی

تہران میں اچانک دھماکے،اسرائیل کی تردید کے بعد صورتحال غیر واضح

تہران 24 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران کے دارالحکومت تہران میں جمعرات کو اچانک دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد علاقائی صورتحال میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شہر کے مغربی حصے میں دفاعی نظام حرکت میں آیا اور مشتبہ اہداف کا تعاقب کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں رات کے وقت آسمان پر روشنیوں اور دفاعی ردعمل کے مناظر دیکھے گئے، جس سے شہریوں میں تشویش پھیل گئی۔ ایرانی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام نے ممکنہ خطرات کا بروقت مقابلہ کیا، تاہم کسی بیرونی حملے کی واضح تصدیق نہیں کی گئی۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایران پر کسی بھی حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی حکام نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس وقت کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔

تاہم اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاٹز نے بیان دیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدام کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق فوج دفاعی اور جارحانہ دونوں سطحوں پر مکمل تیاری رکھتی ہے اور اہداف کا تعین بھی ہو چکا ہے۔

ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں سست روی برقرار ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بات چیت تعطل کا شکار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم ہونے کے بجائے برقرار ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایران نے سمندری ناکہ بندی کو مذاکرات میں شرکت کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے، جبکہ امریکہ اس پالیسی پر قائم ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں فوجی کارروائی کی دھمکی واپس لے لی تھی، تاہم پابندیاں ختم کرنے سے گریز کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں معمولی پیش رفت بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ کسی بھی اچانک تبدیلی کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button