تلنگانہ:برتھ سرٹیفکیٹ کے بدلے 25 ہزار روپے رشوت،آر ڈی او رنگے ہاتھوں گرفتار
برتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے بدلے 25 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے اینٹی کرپشن بیورو نے پکڑ لیا۔
نارائن پیٹ 22 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) تلنگانہ کے نارائن پیٹ ضلع میں بدعنوانی کا ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک اعلیٰ سرکاری افسر کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ لاکھوں کی تنخواہ حاصل کرنے کے باوجود رشوت خوری میں ملوث اس افسر کی گرفتاری نے سرکاری نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق نارائن پیٹ کے آر ڈی او رام چندر نائک کو برتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے بدلے 25 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے اینٹی کرپشن بیورو نے پکڑ لیا۔ یہ کارروائی منگل کے روز ان کے دفتر میں انجام دی گئی جہاں وہ براہ راست رقم وصول کرتے ہوئے گرفتار ہوئے۔
اے سی بی حکام کے مطابق اوٹکور منڈل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے گزشتہ سال جولائی میں اپنے اور اپنے دوستوں کے برتھ سرٹیفکیٹس کے لیے درخواست دی تھی۔ درخواست می سیوا مرکز کے ذریعے جمع کرائی گئی تھی جسے بعد میں تحصیلدار دفتر سے آر ڈی او دفتر بھیج دیا گیا۔ درخواست گزار کو بتایا گیا کہ وہ سرٹیفکیٹس آر ڈی او دفتر سے حاصل کرے۔
متاثرہ شخص کے بیان کے مطابق وہ کئی مہینوں سے دفتر کے چکر لگا رہا تھا، مگر اسے سرٹیفکیٹس جاری نہیں کیے جا رہے تھے۔ بعد میں آر ڈی او نے ہر سرٹیفکیٹ کے لیے 7500 روپے رشوت کا مطالبہ کیا۔ طویل گفت و شنید کے بعد معاملہ 5 ہزار روپے فی سرٹیفکیٹ کے حساب سے 25 ہزار روپے پر طے پایا۔
متاثرہ شخص نے اس معاملے کی شکایت اے سی بی سے کی جس کے بعد حکام نے ایک منصوبہ تیار کیا۔ ہدایت کے مطابق شکایت کنندہ نے طے شدہ رقم آر ڈی او کو دی اور اسی دوران اے سی بی کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر افسر کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
گرفتاری کے بعد حکام نے ملزم کو اپنی تحویل میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ نارائن پیٹ کے بابا کالونی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر بھی تلاشی لی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ملزم کو گرفتار کر کے حیدرآباد میں نامپلی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر سرکاری دفاتر میں پھیلی بدعنوانی کو بے نقاب کرتا ہے اور اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ عوامی خدمات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔



