بین الاقوامی خبریں
افغان عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرنا ہے، افغانستان میں امریکہ کا مشن اختتام پذیر،بائیڈن
ورجینیا:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے تیزی سے انخلاء کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر 2001 ء کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرچکا ہے۔ وائٹ #ہاؤس میں صدر #بائیڈن نے کہا کہ افغان عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں خود ہی فیصلہ کرنا ہے۔
صدرجوبائیڈن نے کہا ہے کہ 31 اگست کو #افغانستان میں امریکہ کا فوجی مشن ختم ہوجائے گا۔ انھوں نے جمعرات کو ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ہم افغانستان میں قوم کی تعمیر کے لیے نہیں گئے تھے۔اب افغان لیڈروں کو مل بیٹھنا ہوگا او وہ باہم مل کر مستقبل کی جانب بڑھیں۔جوبائیڈن نے اس تقریر میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر روشنی ڈالی ہے اور اس کا حالیہ ہفتوں کے دوران میں جنگ زدہ ملک کے مختلف علاقوں میں #طالبان کی تیز رفتار جنگی پیش قدمی کے باوجود دفاع کیا ہے۔
انھوں نے افغانستان میں امریکہ کے #فوجی مشن میں توسیع کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے اور ایسی آوازیں بلند کرنے والوں کو مخاطب ہوکر کہا کہ آپ اور کتنے ہزار امریکی بیٹیوں اور بیٹوں کو خطرے سے دوچار کریں گے۔میں امریکیوں کی ایک اور نسل کو جنگ کے لیے افغانستان میں نہیں بھیجوں گا جبکہ کسی مختلف نتیجہ کے حاصل ہونے کی کوئی معقول توقع بھی نہیں ہے۔
جوبائیڈن نے کہا کہ انھوں نے طالبان پر بھروسہ نہیں کیا تھا بلکہ افغان فوج کی صلاحیت پراعتماد کیا تھا کہ وہ حکومت کا دفاع کرے گی۔امریکی صدر نے اپنا یہ تجزیہ پیش کیا کہ امریکہ کے انخلا کے بعد افغانستان میں کسی ایک حکومت کے کنٹرول کا بہت کم امکان ہے۔انھوں نے افغان حکومت پر زوردیا کہ وہ طالبان کے ساتھ کوئی ڈیل طے کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب کہ افغانستان میں امریکہ کی #جنگ کا خاتمہ ہورہا ہے تو یہ مشن کی تکمیل کا کوئی لمحہ نہیں ہے بلکہ مشن تو تب مکمل ہوا تھا جب ہم نے اسامہ بن لادن کو جالیا تھا اور دنیا کے اس حصے سے اب دہشت گردی سر نہیں اٹھا نہیں رہی ہے۔ان کی اس تقریر سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کے عہدے دار پہلے ہی یہ پیشین گوئی کرتے چلے آرہے ہیں کہ امریکی فوج کے انخلا کے ساتھ افغانستان میں تشدد میں اضافہ ہوگا اور افراتفری پیدا ہوگی۔
ترجمان نے کہا کہ ’’افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کو طول دیا جاتا تو پھر ان پر حملوں میں بھی شدت آسکتی تھی جبکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی افغانستان سے امریکی فوجیوں کے مئی 2021ء تک انخلا پر اتفاق کرچکے تھے۔ قبل ازیں پنٹاگان نے اسی ہفتے بتایا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کا 90 فی صد سے زیادہ انخلا مکمل ہوچکا ہے۔امریکا کی مرکزی کمان کے مطابق جنگ زدہ ملک سے فوجیوں اور ان کے زیراستعمال سازوسامان کو واپس امریکا یا دوسرے ممالک میں منتقل کیا جارہا ہے۔
افغانستان سے سی 130 مال بردار طیاروں کی 984 پروازوں کے ذریعے فوجی سازوسامان بیرون ملک منتقل کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے 17074 فوجی آلات ٹھکانے لگانے کے لیے محکمہ دفاع کی ڈیفنس لاجیسٹکس ایجنسی کے حوالے کیے گئے ہیں اور امریکا نے اپنے زیراستعمال سات فوجی اڈوں کو سرکاری طور پرافغان وزارت دفاع کے حوالے کردیا ہے۔



