بین الاقوامی خبریں

سزائے موت پانے والے مراکشی نوجوان کے والد کی روسی صدرپوتین سے اپیل

لندن، 28جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوکرین سے الگ ہونے والے روس کے حمایت یافتہ علاقے میں سزائے موت کا سامنا کرنے والے مراکشی نوجوان کے والد نے روسی صدر ولادی میرپوتین سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے بیٹے کی جان بچانے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مداخلت کریں۔طاہرسعدون نے یہ اپیل اپنے بیٹے ابراہیم سعدون کی جانب سے کی ہے۔اس مراکشی نوجوان کو جون کے اوائل میں غیر تسلیم شدہ عوامی جمہوریہ دونیتسک (ڈی این آر) میں حکام نے دو برطانوی افراد کے ساتھ سزائے موت سنائی تھی۔

طاہرسعدون نے رباط میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ میں روسی صدر میرپوتین سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ انسانیت کے ناتے اورغیرسرکاری ذرائع سے بطور باپ انسانیت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کریں۔روس یہ الزام عاید کرتا چلا آرہا ہے کہ اس کی فوج کے پڑوسی ملک یوکرین پر حملے کے بعد دوسرے ممالک سے بڑی تعداد میں مسلح افراد کرائے کے فوجی کے طور پر خدمات انجام دینے کے آئے تھے اور ان میں سے بہت سے افراد کو روسی فورسز نے گرفتار کیا ہے۔ان تینوں نوجوانوں کو بھی پکڑنے کے بعد حکام نے موت کی سزا سنائی ہے۔

اس سے قبل مراکشی والد طاہر کَہ چکے ہیں کہ ان کا بیٹا کرائے کا فوجی نہیں بلکہ اس نے 2020 میں یوکرین کی شہریت حاصل کی تھی۔انھوں نے اپنے بیٹے کو’ہیرا پھیری کا شکار‘قراردیا تھا۔انھوں نے مراکش کے وزیراعظم عزیز آخنوش کی حکومت سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور اس ضمن میں ہرضروری اقدام کرے۔یوکرین میں زیرحراست نوجوان کے والد مراکش کی نیم فوجی فورس کے سابق اہلکار ہیں اور وہ محکمے کے ریٹائرڈ تفتیش کار ہیں۔

انھوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ مراکشی حکام ان کے بیٹے کے ساتھ رابطے میں نہیں تھے اور نہ انھیں اب یہ معلوم ہے کہ رباط نے ماسکو یا دونیتسک میں خود ساختہ علاقائی حکام سے کوئی رابطہ کیا ہے یا نہیں۔مراکش کی حکومت نے 13جون تک اس معاملے پرکوئی تبصرہ نہیں کیا تھا اور یوکرین میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے کہا تھا کہ ابراہیم سعدون کویوکرین کے بحری یونٹ کے رکن کی حیثیت سے ریاستی فوج کی وردی پہنے پکڑا گیا تھا۔

تب بیان میں کہا گیا تھا کہ انھیں ایک ایسے ادارے نے قید کررکھاہے جسیاقوام متحدہ اور نہ ہی مراکش تسلیم کرتا ہے۔والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے 2021میں یوکرینی بحریہ میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ تو احکامات کی پیروی کر رہا تھا۔مراکش کے انسانی حقوق کے گروپوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس نوجوان کوبچانے کے لیے فوری مداخلت کرے۔انھوں نے اس کی صحت پربھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button