مہسا امینی کے والد کا انٹرویو کرنے والی خاتون صحافی گرفتار
ایران میں بلوچ رہنماؤں نے آئین پر ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے۔ایران میں بلوچوں کے مذہبی رہ نما مولوی عبدالحمید نے ایرانی حکومت سے بین الاقوامی نگرانی میں عوامی ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا۔
تہران ، 5نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران میں ایک خاتون صحافی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس خاتون صحافی نے پولیس حراست میں ہلاک ہونے والی مہسا امینی کے والد امجد کا انٹرویو کر کے اپنے اخبار میں شائع کیا تھا۔مہسا کی ہلاکت سے مسلسل سات ہفتوں سے ایران کے طول وعرض میں مظاہرے جاری ہیں۔ اتوار کے روز گرفتار کی گئی صحافی خاتون نازیلہ معروفیان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ تہران میں ایک اخبار سے وابستہ ہے۔نازیلہ معروفیان نے مہسا کے کردستان صوبے میں آبائی شہر ساقیز جا کر اس کے والد امجد امینی کا انٹرویو کا انٹرویو کیا تھا۔
ناروے میں قائم انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق صحافی خاتون کو تہران سے اس کے ایک رشتہ دار کے گھر سے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ واضح رہے معروفیان روئیداد 24 نیوز کے لیے کام کرتی ہیں۔ اس کا گرفتاری کا سبب بننیوالا انٹرویو 19 اکتوبر کو شائع ہوا تھا۔ایران میں صحافیوں کیساتھ آج کل کافی خراب سلوک کی رپورٹس مل رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک صحافی کی موت کے بعد اس کی لاش اور تدفین پر بھی تنازعہ پیدا ہو گیا تھا۔
ایران کے مختلف حلقوں کا آئین پر ریفرنڈم کا مطالبہ
تہران ، 5نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران میں بلوچ رہنماؤں نے آئین پر ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے۔ایران میں بلوچوں کے مذہبی رہ نما مولوی عبدالحمید نے ایرانی حکومت سے بین الاقوامی نگرانی میں عوامی ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا۔عبدالحمید نے زور دے کر کہا کہ مظاہرین کو قتل، قید اور مار پیٹ سے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ عبدالحمید نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "جو لوگ 50 دنوں سے سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہیں،حکومت انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکے گی۔ادھرکل جمعہ کے روزجنوب مشرقی ایران کے صوبہ سیستان-بلوچستان میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ یہ مظاہرے کئی ہفتوں کی ملک گیر بدامنی کے بعد تازہ واقعہ ہیں۔انٹرنیٹ پر ریکارڈ شدہ کلپس کے ذریعے دکھائی گئی ویڈیوز کے مطابق لوگ ایک گورنری کی سڑکوں سے گزر رہے تھے، جن میں سے کچھ نے پس منظر میں گولیوں کی آواز کے درمیان پتھر پھینکے، پولیس نے ان پر آنسو گیس کے گولے برسائے۔
ویڈیوز میں کچھ مظاہرین کو زخمی حالت میں دکھایا گیا ہے۔درایں اثنا ایران کی سرکاری ’ارنا‘ نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ مظاہرین نے سیستان بلوچستان کے شہر خاش میں ایک پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی اور مقامی گورنر کے دفتر پر حملہ کیا۔صوبہ سیستان بلوچستان، جس میں سنیوں کی اکثریت ہے، ایران میں حکومت کے خلاف کئی ہفتوں سے مسلسل مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔
30 ستمبر کو اس صوبے کے شہر زاہدان میں مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی مداخلت کے نتیجے میں درجنوں افراد مارے گئے تھے، جسے ’بلڈی فرائیڈے‘ کا نام دیا گیا تھا۔16 ستمبر سے 22 سالہ مہسا امینی کی موت کے بعد پورے ایران میں مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ مہسا کو ایران کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتار کیے جانے کے 3 دن بعد پولیس کی حراست میں قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد ملک میں حکومت کے خلاف شدید غم وغصے کی لہر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔



