امریکہ میں 2035 تک 80 فیصد شہری میت جلانے کو ترجیح دیں گے:نیشنل فیونرل ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن
نیویارک، 25 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ میں نیشنل فیونرل ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن نے ایک رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ 2035 تک لگ بھگ 80 فی صد امریکی اپنی آخری رسومات میں میت سوزی کا انتخاب کریں گے۔امریکہ کی ریاست پنسلوینیا کے شہر لنکاسٹر میں 1876 میں جب مردوں کو جلانے والی پہلی کمپنی کھولی گئی تو اس کے خالق اور آپریٹر فرانسس لیموئن کو کیتھولک چرچ نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔میت کو ٹھکانے لگانے کا نیا طریقہ خطرناک سمجھا جاتا تھا کیوں کہ اس سے روایتی مذہبی تدفین اور معاشرے کے اخلاق واقدار کے احساس کو خطرہ لاحق تھا۔
100 سال سے بھی کم عرصے کے بعد 1963 میں مصنفہ جیسیکا مِٹ فورڈ کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب The american way of death لکھی تاکہ امریکیوں کو اپنے ان تجربات سے آگاہ کیا جا سکے کہ اس نے موت اور موت کی خوف ناک تجارت میں کیا دیکھا۔یادگاری جنازوں کے ڈائریکٹرز، قبرستانوں اور دیگر متعلقہ پیشوں پر کڑی تنقید کرنے کے بعد انہوں نے میت سوزی کے حق میں اپنا مدعا ختم کیا۔ تاہم 1970 تک امریکہ کی کریمیشن ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق صرف پانچ فی صد امریکیوں نے اس طرح کی رسومات کے طریقے کا انتخاب کیا البتہ 2020 میں 56 فی صد سے زیادہ امریکیوں نے اس طریقے کو منتخب کیا۔
آخر اس قدر ڈرامائی تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟ ایک امریکی تاریخ دان اور مصنف نے اس کے لگ بھگ 30 برس بعد کتاب ’کیا قبرستان مردہ ہیں؟‘ میں لکھا کہ وہ جانتے ہیں کہ لوگ اپنے حالات کے لحاظ سے مختلف وجوہات کی وجہ سے میت سوزی کا انتخاب کرتے ہیں اور ان میں سے یہ تین وجوہات قبل ذکر ہیں۔انہوں نے پہلی وجہ بیان کرتے ہوئے تحریر کیا کہ جنازے اور زمین میں دفنانے کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اگرچہ اخراجات ، جگہ اور مقام کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔
عالمی آبادی کے جائزے کے مطابق خاندان جنازوں پر اوسطاً ا آٹھ ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ ریاست مسی سپی میں یہ خرچہ لگ بھگ ساڑھے چھ ہزار ڈالر ہے جب کہ ریاست ہوائی میں یہ خرچہ 15 ہزار ڈالر سے کچھ کم ہے۔اس خرچ کا موازنہ اگر میت سوزی سے کیا جائے تو یہ ایک ہزار سیدو ہزار ڈالر تک ہے، جس میں شمشان گھاٹ یا جنازے کے ڈائریکٹر لاش کو جلانے سے آگے کوئی خدمات فراہم نہیں کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار آخری رسومات اور ان رسومات کی قیمتوں کا موازنہ کرنے والے بلاگ Partings.com میں درج ہیں۔تاہم بہت سے لوگ کم خرچ کی آخری رسومات کا انتخاب نہیں کرتے ہیں۔
نیشنل فیونرل ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق نذر آتش کیے جانے کے ساتھ جنازے کی اوسط لاگت چھ ہزار ڈالر سے زیادہ تھی۔ یہ رقم یقینی طور پر ایک بچت ہے لیکن اتنی بڑی رقم نہیں، جس کا دعویٰ بہت سی ویب سائٹس کرتی ہیں۔کتاب میں میت سوزی کی دوسری بڑی وجہ ماحولیاتی اثرات کو قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ جنازے کی لاگت ایک اہم کردار ادا کرتی ہے البتہ ثقافتی طریقوں میں اتنی تیزی سے تبدیلی ایک فیصلہ کن عنصر نہیں ہے۔
دوسرا اہم عنصر ،ماحولیاتی خدشات ہیں، جس میں ایک لاش کو تابوت میں رکھا جاتا ہے اور تابوت کو دفنایا جاتا ہے۔امریکہ کے پائیدار ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کام کرنے والی زمین کی تزئین کی ماہر الیگزینڈرا ہارکر نے بتایا ہے کہ اس طرح کے قبرستانوں کی تدفین کے بارے میں خدشات زمین کے استعمال سے لے کر ان طریقوں تک ہیں جن کے ذریعے لاش کو تیار کیا جاتا اور دفنایا جاتا ہے۔



