لندن ،15مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روس یوکرین جنگ کے خلاف احتجاج کرنے والی خاتون Marina Ovsyannikova نے روس کے سرکاری ٹی وی اسٹوڈیو میں گھس کر براہ راست نشریات کے دوران جنگ مخالف نعرے لگائے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لندن میں روس کے سرکاری ٹیلی ویژن اسٹیشن میں اس وقت افراتفری کی صورت حال پیدا ہو گئی جب ایک احتجاج کرنے والی خاتون نیوز کاسٹر کے پیچھے جا پہنچی۔
انہوں نے پوسٹر اٹھا رکھا تھا جس پر انگریزی اور روسی زبان میں ’جنگ نہیں‘ کے الفاظ درج تھے۔پوسٹر پر یہ بھی لکھا کہ ’جنگ کو روک دو، پروپیگنڈے پر اعتبار مت کرو، یہ یہاں جھوٹ بول رہے ہیں۔
ان کے علاوہ ایک جملہ مزید بھی درج تھا، تاہم وہ واضح نہیں تھا۔احتجاج کا یہ غیرمعمولی واقعہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے 14 روز بعد سامنے آیا ہے۔احتجاج کرنے والی خاتون کو یہ کہتے بھی سنا جا سکتا ہے ’جنگ کو روک دو، جنگ سے انکار‘۔احتجاج کے دوران بھی نیوزکاسٹر نے اپنا کام جاری رکھا اور ٹیلی پرومپٹر پر نظریں جمائے رکھیں۔
دوسری رپورٹ کی طرف بڑھنے سے قبل خاتون کو کئی سیکنڈ تک احتجاج کرتے ہوئے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔یوکرین کے صدر زیلنسکی نے رات کو ایک ویڈیو خطاب میں احتجاج کرنے والی خاتون کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’میں روسیوں کا شکرگزار ہوں جو سچ بول رہے ہیں، وہ جو غلط معلومات کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اپنے دوستوں، پیاروں کو حقیقت پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا ’میں ذاتی طور پر اس خاتون کا شکرگزار ہوں جو پوسٹر کے ہمراہ نیوز چینل میں داخل ہوئیں۔
جیل میں قید اپوزیشن لیڈر الیکسی نیولنی کی ترجمان کیرا یرمائش نے واقعے کے بعد ٹوئٹر پر لکھا زبرست، یہ لڑکی تو کول ہے۔انہوں نے واقعے کی ویڈیو بھی شیئر کی، جس کو بہت کم وقت میں 26 لاکھ لوگوں نے دیکھا۔
Marina Ovsyannikova, the woman who protested Russian disinfo and the war on Ukraine live on Russian state TV has been arrested. This act of BRAVERY needs to be seen by all. pic.twitter.com/JBOJ4u3b6o
— VoteVets (@votevets) March 14, 2022
احتجاج کرنے والی خاتون کی شناخت مرینہ اوسیانیکوف Marina Ovsyannikova کے نام سے ہوئی ہے، وہ روس کے سرکاری ٹی وی پر کام کرتی ہیں جبکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ کا حصہ بھی ہیں۔



