بین الاقوامی خبریں

سرد جنگ کے بعد پہلی مرتبہ ایٹمی جنگ کا خطرہ درپیش: صدر بائیڈن

واشنگٹن، 7اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ دنیا کو سرد جنگ کے بعد پہلی مرتبہ ایٹمی جنگ کا خطرہ درپیش ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو امریکی صدر جوبائیڈن نے نیویارک میں ڈیموکریٹک فنڈ ریزنگ کی ایک تقریب کے موقعے پر کہا کہ ’ہمیں 1962 میں کینیڈی اور کیوبن میزائل بحران کے بعد سے نیوکلیئر آرماگیڈن کے امکانات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔صدر جو بائیڈن نے کہا کہ جب روسی صدر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دیتے ہیں تو وہ ’مذاق نہیں‘ کر رہے ہوتے۔

پارٹی کے حامیوں سے خطاب کے دوران امریکی صدر نے روسی صدر کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی سے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے میں سخت تبصرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کیوبن میزائل بحران کے بعد پہلی مرتبہ ہمیں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا براہ راست خطرہ ہے۔صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ وہ روسی صدر کی یوکرین میں حکمت عملی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کیوبن میزائل بحران 1962 میں سامنے آیا تھا اور یہ سرد جنگ کے خطرناک ادوار میں سے تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے کیوبا میں سوویت میزائلوں کی موجودگی اعلان کیا تھا۔اس بحران کے بعد دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی تھی تاہم اس کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے نقصانات پر بھی بحث شروع ہوگئی تھی۔

حال ہی میں روسی صدر نے یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دی تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے محدود پیمانے پر جوہری ہتتھیاروں کا استعمال ہوگا تاہم امریکی صدر نے خبردار کرتے ہوئے کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی تباہی بڑے پیمانے پر پھیلنے کا خطرہ ہے۔جوہری ہتھیاروں کی دھمکی کے بعد ماہرین نے کہا تھا کہ رُوس کا یوکرین میں ٹیکٹیکل جوہری بم استعمال کرنے کا مقصد اسے خوفزدہ کر کے مذاکرات یا ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا اور ملک کے مغرب نواز حامیوں کو تقسیم کرنا ہے۔


امریکی صدر کے بیٹے کو ٹیکس چوری اور اسلحہ خریداری کے الزامات کا سامنا

نیویارک، 7اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سی این بی سی کے مطابق ایک وفاقی دفتر نے کہا ہے کہ اس کے پاس ہنٹر بائیڈن پر ٹیکس چوری اور ہتھیاروں کی خریداری کا الزام لگانے کے لیے کافی مواد موجود ہے۔وفاقی دفتر نے مزید کہا کہ صدر بائیڈن کے بیٹے پر ہتھیاروں کی خریداری کے معاملے میں جھوٹ بولنے کا الزام بھی ہے۔سی این بی سی نے مزید کہا کہ ہنٹر بائیڈن پر فرد جرم اب ڈیلاویر کے اٹارنی جنرل کے ہاتھ میں ہے۔تقریباً دو ماہ قبل سی بی ایس نیوز کو معلوم ہوا کہ ہنٹر یا صدر کے بھائی جیمز بائیڈن کی کمپنی سے تعلق رکھنے والے عالمی کاروباری معاملات میں سے 150 سے زائد مالیاتی لین دین کو امریکی بینکوں نے تشویشناک قرار دیا ہے۔

ان معاملات کی مزید جانچ کی ضرورت ہے۔ان میں سے کچھ معاملات میں بڑی ترسیلات شامل تھیں۔ دیکھنا ہوگا کہ اس طرح کے بینک جائزے گہرے مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں یا وہ بے ضرر ہیں۔امریکی قدامت پسند گروپ تین سال سے صدر بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کی سابقہ کاروباری سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ہنٹر بائیڈن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی باقاعدہ ہدف رہے ہیں۔ ٹرمپ کے کیمپ نے بارہا بائیڈن کے بیٹے پر یوکرین اور چین میں اقتصادی مفادات رکھنے پر تنقید کی ہے۔ الزام کے مطابق ہنڑ کے چین اور یوکرین سے اقتصادی مفادات اس وقت وابستہ ہوئے جب ان کے والد بائیڈن امریکہ کے سابق نائب صدر تھے۔52 سالہ ہنٹر بائیڈن ایک وکیل اور لابیسٹ فرم کے رکن ہیں۔ انہوں نے چین اور یوکرین سمیت بیرون ملک کام کیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی حکام نے 2018 میں ہنڑ سے تفتیش شروع کی تھی۔ ابتدائی طور پر اس کے بیرون ملک کاروبار اور مشاورت سے متعلق مالیاتی لین دین پر توجہ دی گئی۔وقت گزرنے کے ساتھ تحقیقات نے اس بات پر توجہ مرکوز کرنا شروع کیا گیا کہ آیا ہنٹر نے 2018 میں آتشیں اسلحے کی خریداری کے لیے جمع کرائی گئی دستاویزات میں غلط بیانات دئیے ہیں یا نہیں۔


بلنکن کا تارکینِ وطن اور مہاجرین کے لیے 24 کروڑ ڈالر کی نئی امداد کا اعلان

واشنگٹن ، 7اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی وزیرِ خارجہ نے برِاعظم امریکہ کے تارکینِ وطن اور مہاجرین کے لیے 24 کروڑ ڈالر کی نئی امداد کا اعلان کر دیا ہے۔ اس امداد کا اعلان بلنکن نے جمعرات کو جنوبی امریکی ملک پیرو کے دورے کے دوران کیا۔بلنکن جنوبی امریکہ کے مختلف ملکوں کے دورے پر ہیں جن میں وہ کولمبیا اور چلی کے بعد جمعرات کو پیرو کے دارالحکومت لیما میں موجود تھے جہاں وہ آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس (او اے ایس) کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شریک ہوئے۔مغربی نصف کرے میں نقل مکانی سے متعلق مشکل مسئلے پر او اے ایس کے وزرا کے مذاکرات میں شرکت سے قبل، بلنکن نے نامہ نگاروں کو 240 ملین ڈالر کی نئی انسانی اور دو طرفہ اور علاقائی امدادکے بارے میں بتایا۔انہوں نے کہا کہ یہ امداد ہمارے پورے نصف کرے میں مہاجرین اور تارکینِ وطن کی ضروریات پوری کرنے پر خرچ ہوگی جن میںصحت کی سہولیات ، پناہ گاہ ، تعلیم اور قانونی معاونت شامل ہو گی۔بلنکن نے کہاکہ اس وقت ہمارے پاس دنیا بھر میں اور اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے وا لے لوگوں کی تعداد 100 ملین سے زیادہ ہے جو تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔بائیڈن انتظامیہ کے لیے مائیگریشن ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

ری پبلکن مخالفین اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صدر نے جنوبی امریکی سرحد کو غیر مجاز کراسنگ کے خلاف غیر محفوظ چھوڑ دیا ہے۔پیرو، جس کی سرحدوں کے اندر ایک اندازے کے مطابق وینزویلا کے 12 لاکھ مہاجرین موجود ہیں، شمالی اور جنوبی امریکی ملکوں کی OAS جنرل اسمبلی کے 52 ویں اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔اس اجلاس کا افتتاح بدھ کو یو کرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے ایک ویڈیو خطاب سے ہوا، جنہوں نے ادارے پر زور دیا کہ وہ روسی فوجی حملے کے پیشِ نظر ان کے ملک کی مدد کرے۔سفارتی ذرائع کے مطابق اسمبلی یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کیخلاف ایک قرار داد منظور کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button