بین الاقوامی خبریں

برطانیہ: سخت احتجاج کے بعد پیغمبر اسلام کی بیٹی پر مبنی فلم کی نمائش روک دی گئی

لندن ، 9 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مسلم برادری کا کہنا ہے کہ حضرت فاطمہ پر فلم ’دی لیڈی آف ہیون‘ فرقہ وارانہ نظریے پر مبنی ہے اور فطرتاً مسلم کمیونٹی کے لیے توہین آمیز ہے۔ مسلمانوں کے احتجاج کے بعد برطانوی سنیما گھروں نے نمائش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔برطانیہ میں سنیما گھروں کی سب سے بڑی چین ’سین ورلڈ‘ نے پیغمبر اسلام ؐکی بیٹی حضرت فاطمہ کے بارے میں فلم ’دی لیڈی آف ہیون‘کی نمائش کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسلمانوں کی معروف تنظیم مسلم کونسل نے اس فلم کو توہین آمیزقرار دیا تھا اور نمائش سے قبل مسلم تنظیموں نے بعض سنیما گھروں کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔سین ورلڈ دنیا کی دوسری سب سے بڑی سنیما چین ہے، جس نے اعلان کیا ہے کہ حفاظتی خدشات کے سبب برطانیہ میں ’دی لیڈی آف دی ہیون‘ کی نمائش کو ہر جگہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔’سین ورلڈ‘ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ دی لیڈی آف ہیون کی نمائش سے متعلق، بعض حالیہ واقعات کی وجہ سے، ہم نے اپنے عملے اور صارفین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فلم کی آئندہ ہونے والی تمام نمائشوں کو ملک بھر میں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس فیصلے سے قبل برطانیہ کے متعدد شہروں میں فلم کی اسکریننگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اس حوالے سے ایک آن لائن ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شمالی انگلینڈ میں شیفیلڈ سین ورلڈ کے مینیجر مظاہرین کے ایک گروپ کو بتا رہے ہیں کہ فلم کی اسکریننگ منسوخ کر دی گئی ہے۔

اسی طرح کے ایک اور مظاہرے میں مرکزی شہر برمنگھم اور شمالی قصبے بولٹن میں سنے ورلڈ تھیٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔لیڈی آف دی ہیون ایک ایسی پہلی تاریخی ڈرامہ فلم ہے جو، پیغمبر اسلام کی بیٹی حضرت فاطمہ کی زندگی پر مبنی ہے۔ فلم میں اس صدی کی بدنام دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ اور سنی مکتب فکر کے اسلام کی بعض اہم تاریخی شخصیات کے درمیان موازنہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس کی ویب سائٹ پر فلم کا خلاصہ کچھ یوں لکھا ہے،

’’پیغمبر اسلام حضرت محمد کی بیٹی حضرت فاطمہ کا دل دہلا دینے والا سفر…… 14سو برس بعد ایک عراقی بچے کو جنگ زدہ ملک میں، صبر کی اہمیت اور طاقت کا سبق ملتا ہے‘۔فلم کا آغاز عراق پر داعش کے حملے سے ہوتا ہے اور پہلے ہی سین میں ایک بھیانک قتل کا منظر ہے۔ چونکہ مذہب اسلام میں مذہبی شخصیات کی براہ راست تصویر کشی منع ہے، اس لیے حضرت فاطمہ کو ایک ایسے بے چہرہ کردار کے طور پر پیش کیا گیا، جو صرف ایک سیاہ نقاب اوڑھے ہوئے ہیں۔

اس فلم کا ایک ٹریلر دسمبر 2020 میں پوسٹ کیا گیا تھا، جسے یوٹیوب پر تیس لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے، لیکن اس پر تبصرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ برطانیہ میں تاہم مسلم تنظیمیں اس فلم کی سخت مخالف ہیں۔ ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ لوگوں نے ایک آن لائن پٹیشن پر دستخط کیے ہیں، جس میں فلم کو نسل پرستی پر مبنی قرار دیا گیا ہے اور اسے برطانیہ کے تمام سنیما گھروں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

برطانیہ میں مساجد سے متعلق ’بولٹن کونسل آف موسک‘ نے اس حوالے سے اپنے ایک مکتوب میں لکھا ہے کمہ یہ ایک فرقہ وارانہ نظریے پر مبنی فلم ہے اور یہ مسلم کمیونٹی کے لیے فطرتاً توہین آمیز ہے۔ اس کے مطابق یہ فلم بہت اعتبار سے پیغمبر اسلام کی شدید توہین کرتی ہے اور ہر مسلمان کے لیے سخت پریشانی کا باعث ہے۔تاہم ’دی لیڈی آف ہیون‘ کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر ملک شلبک کا کہنا ہے کہ تنازعے کی وجہ سے فلم کی تشہیر ہونے کے ساتھ ہی یہ زیادہ سے زیادہ ناظرین تک پہنچ رہی ہے۔ انہوں نے فلم کی نمائش نہ کرنے کے فیصلے پر نکتہ چینی کی اور اسے آزادی اظہار پر پابندی سے تعبیر کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button