بین الاقوامی خبریں

یوکرین: اپنی جانوں پر کھیل کر شہریوں کے انخلاء کو ممکن بنانے والے ڈرائیورز

کیف،12جون اپریل میں جس وقت یوکرینی بندرگاہی شہر ماریوپول پر روسی توپیں گولے برسا رہی تھیں، ایک فیملی نے تین چھوٹے بچوں کیساتھ فرار ہونے کا فیصلہ کیا۔ روس کے قبضے والے اس علاقے سے ان کے انخلاء کو ممکن بنایا ایک رضاکارڈرائیور نے۔ماریوپول سے تین چھوٹے بچوں کیساتھ کئی میل تک پیدل چل کر ایک قریبی گاؤں پہنچنے والی ایک یوکرینی فیملی کو یوکرین کے روسی قبضے والے علاقے سے نکال کر انہیں زندہ سلامت فرار ہونے میں کامیاب بنانے کا سہرا ایک ڈرائیور کے سر ہے۔

مئی کے شروع میں 58 سالہ لوڈا لوبانووا یوکرین کے ایک مرکزی شہر سپوریڑیا پہنچی تھیں۔ اپنے تین بچوں، جن کی عمریں ڈھائی، سات اور آٹھ سال ہیں، کے ساتھ بس سے اترتے ہوئے کہہ رہی تھیں،ڈرائیور شہنیا ایک فرشتہ ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا تو ہم کبھی بھی یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔لوڈا لوبانووا اشکبار تھیں۔ ان کے بقول انہوں نے اپنی فیملی کیساتھ کئی بار فرار ہونے کی کوشش کی تاہم ہر بار انہیں سرحدی علاقے سے لوٹا دیا گیا۔ انہوں نے اس فرشتہ صفت ڈرائیور کا شکریہ ادا کیا۔ یہ ڈرائیور انہیں اور ان کے بچوں کو وہاں اتار کی تیزی سے اپنی منی بس میں دوبارہ چڑھ گیا۔

اس کے پاس اور بھی انسانی امداد کی اشیا تھیں اور اسے ابھی مزید اور لوگوں کو بھی یہاں پہنچانا تھا۔ یوکرین کے مشرقی اور جنوبی شورش زدہ علاقوں میں رضاکار ڈرائیورز ہر طرح کے خطرات مول کر مقامی باشندوں کو ان علاقوں سے نکالنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ خاص طور سے سرحدی فرنٹ لائن کے عقبی علاقے میں وہ یوکرینی باشندوں کو امدادی سامان پہنچانے اور وہاں سے لوگوں کو نکالنے کی ممکنہ کوششیں کر رہے ہیں۔

اس کے لیے وہ جو رستہ اختیار کرتے ہیں وہ اکثر خطرناک اور طویل ہوتا ہے۔ کبھی کبھی تو راستہ اتنا لمبا ہوتا ہے کہ مسافت طے کرنے کے دوران ہی ڈرائیورز کو حراست، زخموں یا موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوکرینی رضاکاروں کی اطلاعات کے مطابق مشرقی ڈونیٹسک کے علاقے میں روس نواز علیحدگی پسندوں نے دو درجن سے زائد ڈرائیوروں کو گرفتار کر لیا اور انہیں دو مہینوں سے زیادہ زیر حراست رکھا تھا۔ چند ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ وہ یہ خطرناک کام پیسے لے کر کرتے ہیں لیکن بہت سے یہ کام رضا کارانہ طور پر یا مفت کیا کرتے ہیں۔ یا تو تنہا یا کسی منظم گروہ کے ساتھ مل کر کرتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button