بین الاقوامی خبریں

اقوام متحدہ نے امریکہ۔ایران امن معاہدے کا خیر مقدم کیا، انتونیو گوتریس نے علاقائی سفارت کاری کو سراہا

پاکستان، قطر، سعودی عرب اور ترکی کے کردار کو اقوام متحدہ کی ستائش

نیویارک، 15 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دیرپا استحکام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ فوری اور مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور آئندہ مذاکرات کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سیکریٹری جنرل نے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ فریق اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اختلافات کے مستقل حل کی جانب آگے بڑھیں گے۔

بیان کے مطابق انتونیو گوتریس نے پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کے تعمیری کردار کی خصوصی ستائش کی، جنہوں نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اقوام متحدہ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ عالمی ادارہ خطے میں جامع اور پائیدار امن کے قیام کے لیے متعلقہ ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا اور کسی بھی مثبت سفارتی عمل کی حمایت کرے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان کے مطابق اس سمجھوتے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی جبکہ تنازع کے دوران نافذ کی گئی امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور یہ عالمی امن و استحکام کے لیے ایک خوش آئند لمحہ ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی کی بھی منظوری دی۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کی سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے دنیا کے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بے یقینی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں کو بھی استحکام حاصل ہونے کا امکان ہے۔ اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی حلقے اس معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button