بین ریاستی خبریں

ممتا بنرجی کو بڑا جھٹکا، ہائی کورٹ نے باغی ایم ایل اے کو قائدِ حزبِ اختلاف برقرار رکھا

ممتا بنرجی کو عدالت سے ریلیف نہ مل سکا، ہائی کورٹ نے باغی ایم ایل اے کی تقرری پر روک لگانے سے انکار کر دیا

کولکاتا 18/جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مغربی بنگال کی سیاست میں ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعرات کو اسمبلی اسپیکر رتھیندر بوس کے اس فیصلے پر عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا جس کے تحت پارٹی سے نکالے گئے رکن اسمبلی ریتابرتا بنرجی کو قائدِ حزبِ اختلاف تسلیم کیا گیا تھا۔

جسٹس کرشنا راؤ نے ٹی ایم سی کے سینئر رہنما سوبھندیب چٹوپادھیائے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عبوری ریلیف دینے سے انکار کیا۔ عدالت نے فریقین کو 21 دن کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی اور کیس کی اگلی سماعت 28 جولائی مقرر کی ہے۔

اسمبلی انتخابات میں ٹی ایم سی کی شکست کے بعد پارٹی نے سوبھندیب چٹوپادھیائے کو قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کی اطلاع اسپیکر کو دی گئی تھی۔ تاہم اسپیکر نے اجلاس کی قرارداد اور کارروائی کی تفصیلات طلب کیں۔ بعد ازاں پارٹی نے دوبارہ اجلاس منعقد کرکے حاضری شیٹ سمیت دستاویزات اسپیکر کے دفتر کو بھیج دیں۔

اس کے باوجود اسپیکر نے مبینہ طور پر باغی اراکین کی حمایت کی بنیاد پر ریتابرتا بنرجی کو قائدِ حزبِ اختلاف تسلیم کر لیا۔ اس فیصلے کو سوبھندیب چٹوپادھیائے نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ بظاہر اسپیکر باغی اراکین کے فیصلے کو قبول کرنے میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ عدالت نے یہ دلیل بھی مسترد کر دی کہ ریتابرتا بنرجی کی پارٹی سے بے دخلی صرف اندرونی معاملہ ہے اور اس کے کوئی اثرات نہیں ہوتے۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹی ایم سی اندرونی اختلافات اور باغی رہنماؤں کے نئی سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے کے باعث دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ عدالت کے عبوری حکم سے فی الحال ریتابرتا بنرجی کی قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت برقرار رہے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button