نیویارک،28مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ میں جنوبی کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر الزام ہے کہ اس نے 2016 سے اب تک 1700 سے رینگنے والے جانور اسمگل کیے جن میں مگر مچھ کے بچے اور میکسیکن چھپکلیاں بھی شامل تھیں۔ حکام کے مطابق جوس مینوئل پیریز Jose Manuel Perez المعروف جولیو روجریز کو میکسیکو کے ساتھ واقع سے رواں سال 25 فروری کو حراست میں لیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا تھا کہ سرحد پر گشت کرنے والے اہلکاروں کو 60 کے قریب چھپکلیاں اور سانپ چھوٹی تھیلیوں میں بند ملے جو اس شخص کی جیکٹ، پتلون کی جیبوں اور کمر کے گرد چھپائے گئے تھے۔پیریز نیاہلکاروں کو بتایا کہ یہ مبینہ طور پر ان کے پالتو جانور ہیں۔وہ اس وقت وفاقی اداروں کی حراست میں ہیں۔
پیریز کو آئندہ ہفتے پیر کو لاس اینجلس میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔حکام کے مطابق اسمگل کیے جانے والے ان جانوروں میں چند ایسے بھی تھے جو معدومی کا شکار ہیں۔جنوری 2016 کے آغاز سے پیریز اور ان کی بہن سمیت دیگر افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے جنگلی حیات کی خرید و فروخت کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کیا۔
رپورٹس کے مطابق ان حشرات میں میکسیکن باکس کچھوے بھی شامل تھے جنہیں مبینہ طور پر میکسیکو اور ہانگ کانگ سے بغیر اجازت کے برآمد کیا گیا تھا۔حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حشرات کو میزوری میں قائم پیریز کے گھر منتقل کیا گیا تاہم بعد ازاں جب پیریز کیلی فورنیا منتقل ہوئے تو حشرات کو بھی وہاں منتقل کر دیا گیا۔
استغاثہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کی بہن اسمگلنگ کے کاروبار میں ان کی معاونت کرتی تھیں خاص طور پر جب وہ امریکہ میں قید تھے۔
کرونا کے باعث امریکہ کی تین چوتھائی کاونٹیز کی آبادی میں کمی
نیویارک،28مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی مردم شماری بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق ملک کی تین چوتھائی کاونٹیز کی آبادی کی کمی میں کرونا وبا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔دنیا بھر میں کرونا وبا کی وجہ سے اب تک 60 لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جن میں امریکہ سر فہرست ہے جہاں اب تک دس لاکھ کے قریب افراد کرونا کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔
امریکی مردم شماری بیورو کے سال 2021 کے اعدادوشمار میں امریکہ کی تقریباً 3000 کاونٹیز میں آبادی میں کمی کی وجہ شرح اموات کے مقابلے میں کم شرح پیدائش کو قرار دیا گیاتھا۔تاہم اس ہفتے جاری ہونے والی ایک تازہ تحقیق کے مطابق شرح پیدائش میں کمی ، معمر ہوتی آبادی اور کرونا وبا کی وجہ سے بڑھتی ہوئی شرح اموات کی وجہ سے آبادی میں یہ قدرتی کمی واقع ہوئی ہے۔
تحقیق میں آبادی میں کمی جانچنے کے لیے اندرون اور بیرون ملک ہجرت کر جانے والوں کو بھی شمار کیا گیا جس میں ظاہر ہوا کہ کیلیفورنیا، اوریگون اور مسی سیپی وہ ریاستیں ہیں جہاں سے سب سے بڑی تعداد میں لوگوں دوسرے ممالک منتقل ہوئے۔
دوسری طرف الاسکا، لوئیزیانا اور الانوئے وہ ریاستیں ہیں جہاں سے شہریوں کی بڑی تعداد امریکہ ہی میں دوسری ریاستوں میں منتقل ہوئی۔مردم شماری بیورو کے سروے کے مطابق سال 2020 کے مقابلے میں 2021 میں امریکہ کی %65 کاونٹیز میں ان ہجرتوں کو مثبت قرار دیا گیا ہے۔
اندرون ملک ہجرت کی وجہ سے شہریوں کی آمد سب سے زیادہ بالترتیب ریاست اریزونا کی ماریکوپا کاونٹی، کیلیفورنیا کی ریورسائڈ کاؤنٹی اور ٹیکساس کی کولن کاؤنٹی میں دیکھی گئی۔ریاست کیلیفورنیا ہی کی لاس اینجلیس کاونٹی، اور نیو یارک کی نیو یارک کاونٹیز وہ علاقہ ہیں جنہیں بڑی تعداد میں شہری چھوڑ گئے۔
بیورو کے اعدادو شمار کے تخمینوں اور پیشگوئی آفس کی اسسٹنٹ چیف کرسٹین ہارٹلی کے مطابق سال 2021 میں اندرون ملک ہجرتوں کی روایتی ترتیب میں تبدیلی دیکھی گئی۔