بین الاقوامی خبریں

امریکہ میں طلبا کے قرضوں میں دس ہزار ڈالر تک کی معافی

روس کے ساتھ کاروبار: امریکہ کی ترک کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی

واشنگٹن ، 25اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز ایک اعلان میں امریکہ میں طلبا کے قرضوں کی معافی کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس اعلان میں قرضوں کی ادائیگی میں آسانی کے اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وہ مقروض افراد جن کی انفرادی آمدنی 1 لاکھ 25 ہزار ڈالر سالانہ سے کم ہے، یا ایسے خاندان جن کی مجموعی آمد ن سالانہ ڈھائی لاکھ ڈالر سے کم ہے، ان کے خاندان میں تعلیم کے لیے لیے گئے قرض میں سے 10 ہزار ڈالر معاف کر دئے جائیں گے۔

جب کہ ایسے ضرورت مند طلبا جنہیں پیل گرانٹس کی سکالر شپ ملی تھی، ان کے فیڈیرل لون میں سے حکومت مزید 10 ہزار ڈالر معاف کر دے گی۔ واضح رہے کہ صدر بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران طلبا کے قرضوں میں سے 10 ہزار ڈالر تک معافی کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم اس سلسلے میں اعلان میں تاخیر ان چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے جن کا انہیں اپنا وعدہ پورا کرنے کے سلسلے میں سامنا رہا ہے۔وائٹ ہاؤس میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دونوں اقدامات ان خاندانوں کے لئے ہیں جو ضرورت مند ہیں، مزدور طبقہ اور درمیانے درجے کا طبقہ وبا کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

بائیڈن نے 2022 کے اختتام تک طلبا کے قرضوں کی قسطوں کی ادائیگیوں کو بھی روک دیا ہے۔ اگر یہ منصوبہ تمام قانونی چیلنجز کا سامنا کر پاتا ہے، تو امریکہ میں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے دوران یہ بہت اہمیت اختیار کر جائے گا۔امریکہ میں طالب علموں کا وفاقی قرضہ اب ایک اعشاریہ 6 ٹریلین (16 کھرب) ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ تازہ ترین وفاقی اعداد و شمار کے مطابق، چار کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ امریکی’ اسٹوڈنٹ لون ‘ میں وفاق کے قرض دار ہیں، جن میں سے تقریباً ایک تہائی کا قرضہ 10 ہزار ڈالر سے کم اور نصف کا 20 ہزار ڈالر سے کم ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ بائیڈن کے منصوبے کے تحت دو کروڑ سے زائد افراد کا طالب علمی کا قرضہ ختم ہو جائے گا۔سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے لیڈر مچ میک کونل نے ایک بیان میں کہا کہ صدر بائیڈن کی پیدا کردہ مہنگائی پہلے ہی مزدور خاندانوں کو متاثر کر رہی ہے، اور ان کا حل یہ ہے کہ زیادہ تنخواہ پانے والے افراد کو مزید حکومتی رقوم سے نوازا جائے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ڈیموکریٹ پارٹی مزدور خاندانوں کے پیسے کو استعمال کر کے اپنے سیاسی حامیوں کو خوش کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران امریکی انتظامیہ نے قرض داروں کی سہولت کے لیے اقساط کی ادائیگی کو اس سال 31 اگست تک منجمد کر دیا تھا۔ اب یہ تاریخ انتہائی قریب آ گئی ہے جس کے بعد قرض کی اقساط کی ادائیگی پھر سے شروع ہو جائے گی۔


امریکہ نے 1776 میں اپنے قیام کے بعد سے 400 جنگوں کی آگ بھڑکائی

تہران ، 25اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ نے 1776 میں اپنے قیام کے بعد سے 2019 تک، دنیا بھر میں تقریبا 400 جنگیں لڑی ہیں۔ملٹری انٹروینشن پروجیکٹ:1776سے 2019 تک امریکی فوجی مداخلت کے نئے اعدادوشمارکے عنوان سے ایران کے پریس ٹی وی کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پچھلی دو دہائیوں کے دوران، امریکی فوج نے دوسرے ممالک کے علاقوں پر یومیہ اوسطاً ً46 بم اور میزائل گرائے ہیں۔اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ فوجی کارروائیوں، پولیس کارروائیوں یا انسانی ہمدردی کی بنا پر مداخلت کے لبادے میں واشنگٹن کی ان لامتناہی جنگوں کا مقصد امریکہ کے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے کلیدی ستون کی حمایت کرنا ہے۔

رپورٹ میں ایک سیاسی تجزیہ کار جولیس مبالوتوکے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ نے جان بوجھ کر ان جنگوں کی منصوبہ بندی کی جس کا مقصداسلحے کی فروخت کو زیادہ سے زیادہ کرنا تھا، رپورٹ میں جنگوں کو فروغ دینے میں امریکی اسلحہ ساز اداروں اور خارجہ پالیسی سازوں کے درمیان ممکنہ ملی بھگت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔


روس کے ساتھ کاروبار: امریکہ کی ترک کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی

واشنگٹن، 25اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ نے روس کی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے پر ترکی کو پابندیوں سے خبردار کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ترکی کی ایک بڑی بزنس ایسوسی ایشن نے تصدیق کی ہے کہ اْن کو امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے ایک خط موصول ہوا جس میں روس کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے پر پابندیوں سے خبردار کیا گیا ہے۔واشنگٹن میں اس حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ روس کی حکومت اور کاروباری ادارے مغربی ملکوں کی جانب سے عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے ترکی کا راستہ استعمال کر رہے ہیں۔ چھ ماہ قبل یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک نے روسی حکومت اور اس کے کاروباری اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

رواں ماہ کے آغاز پر ترک صدر رجب طیب اردوغان اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن نے بحیرہ اسود کے تفریحی مقام سوچی میں ایک کانفرنس کے دوران معاشی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔سرکاری طور پر جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مئی اور جولائی کے درمیان ترکی سے روس کو برآمدات میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔8ترکی نے روس سے درآمد ہونے والے تیل کی مقدار کو بڑھا دیا ہے اور دونوں ملکوں نے کریملن سے جڑی قدرتی گیس کی بڑی کمپنی گیزپروم کو روسی کرنسی میں ادائیگی پر بھی اتفاق کیا۔امریکی وزارت خزانہ کی ڈپٹی سیکریٹری والے اڈیمو نے جون میں ترکی کے ایک غیرمعمولی دورے میں انقرہ کو روس کے ساتھ کاروبار پر واشنگٹن کے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔

نیٹو کے رکن ملک ترکی نے روس اور یوکرین کی جنگ میں غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور ماسکو کے خلاف عالمی پابندیوں کا حصہ بننے سے انکار کیا۔والے اڈیمو کے دورے کے بعد اب امریکی وزارت خزانہ کے خط میں ترک امریکہ بزنس ایسوسی ایشن اور ترکی میں امریکی چیمبر آف کامرس کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ خود پر پابندیوں کا خطرہ نہ مولیں۔ترک بزنس ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خط ترک وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ کو بھیج دیا گیا ہے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص یا کمپنی جو امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد کو مدد فراہم کرتے ہیں وہ خود انہی پابندیوں کی زد میں آ نے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button