نیویارک ،7مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی ایوان نمائندگان نینسی پلوسی Nancy Pelosi کا کہنا ہے کہ ایوان روسی تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے قانون پر غور کر رہا ہے۔ مزید یہ کہ کانگریس رواں ہفتے یوکرین کے لیے دس ارب ڈالر کی امداد کی منظوری دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ اقدام روس کی جانب سے جنگ چھیڑے جانے کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔
ایک مکتوب میں پلوسی کا کہنا تھا کہ ایوان نمائندگان اس وقت ایسے طاقت ور قوانین پر غور کر رہا ہے جو عالمی معیشت میں روس کی تنہائی میں اضافہ کر دیں گے ۔زیر غور قانون امریکا میں روسی تیل اور توانائی کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا۔ روس اور بیلا روس کے ساتھ معمول کے تجارتی تعلقات ختم کر دے گا۔
ساتھ ہی روس کو عالمی تجارتی تنظیم میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے ابتدائی اقدام کیا جائے گا۔کیوڈو نیوز ایجنسی کے مطابق جاپان کی حکومت روسی تیل کی درآمدات پر ممکنہ پابندی کے حوالے سے امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے بتایا تھا کہ امریکہ روسی تیل کی درآمدات پر ممکنہ پابندی کے حوالے سے اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے روس پر عائد کی گئی پابندیوں میں اب تک توانائی کے سیکٹر کو شامل نہیں کیا گیا ہے تاہم پابندیوں کے نتیجے میں ترسیل میں تعطل کے اندیشے کے سبب عالمی منڈی میں افراتفری پھیلی ہوئی ہے۔
یوکرین کے شہروں پر قبضے کیلئے روس نے عرب اجرتی جنگجو بھرتی کیے: امریکی عہدیدار
روس یوکرین میں لڑنے کے لیے گوریلا جنگ کا تجربہ رکھنے والے شامی اجرتی جنگجوؤں کو بھرتی کر رہا ہے۔ یہ بات اتوار کے روز وال اسٹریٹ جرنل اخبار نے امریکی ذمے داران کے حوالے سے بتائی۔ چار امریکی ذمے مذکورہ اخبار کو بتایا کہ 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کرنے والے روس کو غیر متوقع مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
لہذا ماسکو نے حالیہ دنوں میں شامی جنگجوؤں کو بھرتی کرنا شروع کر دیا تا کہ یوکرین کے شہروں پر قبضہ کیا جا سکے۔روس 2015سے شام کے تنازع میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے شانہ بشانہ شریک ہے۔
ایک امریکی ذمے دار ن ے وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ بعض شامی جنگجو پہلے ہی روس میں موجود ہیں۔ یہ لوگ یوکرین میں جاری لڑائی میں شمولیت کی تیاری کر رہے ہیں۔
امریکی اسلحہ کمپنیوں کی جانب سے یوکرین کیلئے لاکھوں بارودی گولیوں کا عطیہ
امریکی ریاست ایری زونا میں گولہ بارود تیار کرنے والی ایک کمپنی نے رواں ہفتے اعلان کیا ہے کہ وہ بندوقوں کی دس لاکھ گولیاں یوکرین بھیجے گی۔ یہ اعلان یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی کی اس اپیل کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے مزید گولہ بارود حاصل کرنے پر زور دیا تھا۔



