
امریکہ نے بھارت پر جبری مشقت کے الزام میں 10 فیصد نیا ٹیرف عائد کر دیا، سیکشن 301 کے تحت کارروائی
بھارت پر 10 فیصد ٹیرف نافذ؛ جاری تجارتی معاہدے کے مذاکرات پر بھی اثرات پڑنے کا امکان۔
واشنگٹن، 24 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں)امریکہ نے جبری مشقت (Forced Labour) سے متعلق تحقیقات کے نتیجے میں بھارت سمیت 60 ممالک کی درآمدات پر نئے محصولات (ٹیرف) عائد کر دیے ہیں۔ سیکشن 301 کے تحت کی گئی اس کارروائی میں بھارت پر 10 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے، جو ابتدائی طور پر زیر غور 12.5 فیصد شرح سے کم ہے۔
امریکی حکومت کے مطابق یہ اقدام ان ممالک کے خلاف کیا گیا ہے جو جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نئے ٹیرف کے بعد بھارت کو پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت کئی ایشیائی اور لاطینی امریکی ممالک کے برابر رکھا گیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ طریقوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن ممالک نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر قوانین بنائے ہیں، ان سے ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی توقع کی جاتی ہے۔
یہ کارروائی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مارچ میں شروع کی گئی دو الگ الگ سیکشن 301 تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکی قانون کے تحت سیکشن 301 حکومت کو ان ممالک کے خلاف تجارتی اقدامات کرنے کا اختیار دیتا ہے جن کی پالیسیاں امریکی مفادات کے لیے غیر منصفانہ سمجھی جائیں۔
بھارت اس وقت ایک دوسری سیکشن 301 تحقیقات کا بھی سامنا کر رہا ہے، جس کا تعلق مبینہ اضافی صنعتی پیداواری صلاحیت (Excess Manufacturing Capacity) سے ہے۔ اس تحقیق کا نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
اس سے قبل امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے اشارہ دیا تھا کہ بھارت پر 12.5 فیصد ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم بھارتی حکومت اور صنعتی تنظیموں نے عوامی مشاورت کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ بھارتی آئین اور ملکی قوانین جبری مشقت پر واضح پابندی عائد کرتے ہیں، جس کے بعد مجوزہ شرح کم کر کے 10 فیصد کر دی گئی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان وسیع تجارتی معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں۔ فروری میں دونوں ممالک نے ایک ابتدائی فریم ورک پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت بھارتی مصنوعات پر عائد مجموعی امریکی ٹیرف کو 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی تھی، جبکہ بھارت نے آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً 500 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات خریدنے اور امریکی برآمدات کے لیے اپنی منڈی میں مزید سہولت دینے کی پیشکش کی تھی۔
بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے حال ہی میں کہا تھا کہ 18 فیصد ٹیرف بھارت کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مسابقتی برتری دے سکتا ہے، تاہم امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے عالمی باہمی ٹیرف سے متعلق فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے بعد اس مجوزہ انتظام پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت کے لیے ایک اور تشویش یہ ہے کہ وہ دو الگ الگ سیکشن 301 تحقیقات کی زد میں ہے، جبکہ پاکستان اور سری لنکا جیسے ممالک صرف جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر مستقبل میں ان ممالک پر مجموعی ٹیرف بھارت سے کم رہا تو بھارتی برآمد کنندگان کو امریکی منڈی میں مسابقتی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
تجارتی امور کے ماہر مارک لنسکاٹ کا کہنا ہے کہ بھارت اور امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم نئی دہلی اس بات کی یقین دہانی چاہتی ہے کہ اسے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ترجیحی ٹیرف حاصل ہوگا، کیونکہ یہی معاملہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔



