مقبوضہ بیت المقدس، 14جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی صدر جوبائیڈن مشرقِ وسطیٰ کے اپنے پہلے دورے میں بدھ کے روز اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ، نگران وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور نامزد وزیراعظم یائرلبید نے ہوائی اڈے پران کا استقبال کیا۔صدربائیڈن نے اپنی آمد کے بعد اسرائیلی لیڈروں کے ساتھ بِن گورین ہوائی اڈے پر پریس کانفرنس کی ہے۔بائیڈن نے اپنی گفتگومیں مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے انضمام کو آگے بڑھانے اور امریکااور اسرائیل کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کا عزم ظاہرکیا۔اسرائیلی وزیراعظم یائرلاپیڈ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ امریکہ اوراسرائیل ایران کیخلاف ’عالمی اتحاد‘کی تجدید پر بات چیت کریں گے۔
امریکی صدر کے اسرائیل کے ہوائی اڈے سے ایئرفورس ون کے چھونے کے چند لمحوں کے بعدیا ئر لبید نے کہا کہ ہم ایک مضبوط عالمی اتحاد کی تجدید کی ضرورت پر تبادلہ خیال کریں گے اور یہ ایرانی جوہری پروگرام کو روک دے گا۔یہ جوبائیڈن کا اسرائیل کا دسواں دورہ ہے لیکن صدرامریکا کی حیثیت سے پہلا دورہ ہے۔وہ اسرائیلی قیادت سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر مذاکرات اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے طویل عرصے سے تعطل کا شکار مذاکرات پربات چیت کریں گے۔
لاپیڈ نے اپنی تقریرمیں بائیڈن کو’’ایک عظیم صہیونی اور اسرائیل کے اب تک کے بہترین دوستوں میں سے ایک قرار دیا اورکہا کہ اسرائیل کے ساتھ آپ کے تعلقات ہمیشہ ذاتی رہے ہیں۔چار روزہ دورے میں بائیڈن اسرائیلی، فلسطینی اورسعودی عرب کے حکام سے بات چیت کریں گے۔انھیں اسرائیل کے آئرن ڈوم اور آئرن بیم ایئر ڈیفنس سسٹم کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔بعد ازاں وہ مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) دوسری جنگ عظیم میں مرگ انبوہ کے مقتولین کی اسرائیل میں یادگاریادویشم میں پھولوں کی چادر چڑھائیں گے۔بائیڈن جمعہ کو مغربی کنارے میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کیلئے جائیں گے۔اس سے قبل وہ اسرائیلی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے لیے یروشلم میں دو دن گزار رہے ہیں۔اس کے بعد وہ سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوجائیں گے۔



