بین الاقوامی خبریں

اسقاطِ حمل سے متعلق امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ، ایشیائی خواتین کی تشویش بڑھنے لگی

واشنگٹن ، 7جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی سپریم کورٹ کے اہم فیصلے کے ذریعے خواتین کو حاصل اسقاطِ حمل کے حقوق وفاقی سطح پرختم ہونے کے بعد امریکہ میں اس فیصلے پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ امریکہ میں مقیم جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی کے بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس طرح کی عدالتی فیصلے،مستقبل میں اقلیتی برادریوں اور خواتین کے حقوق کو محدود کرنے کے راستے کھول سکتے ہیں۔ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری خاتون ثنا (فرضی نام) نے کہا کہ غربت کی وجہ سے وہ تیسرا بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتی تھیں ۔

اس لیے تیسری مرتبہ حاملہ ہونے کے فوراً بعد ہی انہیں ابارشن کا فیصلہ لینا پڑا۔ریاست کیلی فورنیا میں مقیم ثنا کی عمر اْس وقت 27 برس تھی جب انہوں نے اسقاطِ حمل کا فیصلہ کیا تھا۔ثنا کے بقول ہم نئے نئے امریکہ آئے تھے۔ میرے پاس نوکری نہیں تھی ابھی ملازمت بھی نہیں ملی تھی میرے وسائل نہیں تھے۔ گھر میں کھانا کھانے کے لیے پیسے نہیں تھے، میں تیسرا بچہ کیسے پیدا کرتی؟ اس کی ضروریات کیسے پوری ہوتیں۔ ا س لیے مجھے یہ مشکل قدم اٹھانا پڑا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شکر ہے شوہر نے میرا ساتھ دیا مگر ساس اور والدہ نے بہت کوشش کی کہ میں یہ فیصلہ ترک کردوں لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ثنا اب اپنا کاروبار چلاتی ہیں اور ان کے دونوں بچے شادی شدہ ہیں۔ وہ اپنے فیصلے سے آج بھی مطمئن ہیں۔اسقاطِ حمل کے حق کو تخفظ فراہم کرنے والی ریاست کیلی فورنیا میں انہیں ابارشن کروانے میں کوئی دقت نہیں ہوئی مگر اب وہ ان خواتین کے لیے پریشان ہیں جن کا تعلق ان ریاستوں سے ہے جہاں اسقاطِ حمل کے خلاف قانون یا تو سخت کردیا گیا ہے یا ہونے والا ہے۔

ثنا نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خواتین سے یہ حق چھین کر خواتین کے حقوق کی مہم کو ٹھیس پہنچائی ہے یہ ہماری مرضی ہونی چاہیے کہ ہم اپنے حالات دیکھتے ہوئے فیصلہ کریں کہ ہمیں اپنی پریگنینسی کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ ہمیں معلوم تو تھا کہ سپریم کورٹ کچھ ایسا ہی فیصلہ کرنے جا رہی ہے مگر اس فیصلے کے آنے کے بعد مجھے اداسی ہوئی۔

ہر دس میں سے چھ امریکی شہری ابارشن کے مکمل حق میں ہیں یا زیادہ تر کیسز میں اس کی حمایت کرتے ہیں۔امریکہ میں 18ویں صدی میں سب سے پہلے نوجوان مرد ڈاکٹروں کے ایک گروپ نے ابارشن کے خلاف مہم کا آغاز کیا تھا۔ کیوں کہ اس سے پہلے برطانوی قوانین کے مطابق یہ حق حاملہ خاتون کو حاصل تھا کہ جب اسے فیٹس میں حرکت محسوس ہو تو تب ہی زندگی کا پیدا ہونے کا تعین کیا جائے۔ نہ کہ حاملہ ہونے کے ساتھ ہی سیلز کو زندہ بچہ سمجھا جائے۔فیٹس سیلز میں جان آنے کے عمل کو عام طور پر چار سے چھ ماہ کا عرصہ سمجھا گیا۔ اس مدت کے بعد اسقاطِ حمل کو غیر قانونی قراد دیا گیا تھا ۔

بعض تاریخ دانوں کے مطابق اس وقت کی میڈیکل کمیونٹی کا یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں تھا۔لیکن وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ 19 ویں صدی کے آغاز سے ہی خاتون کی جان کو خطرے کی صورت کے علاوہ امریکہ کی تقریباً ہر ریاست نے ابارشن پر پابندی لگا دی۔ جس کے بعد یہ امریکہ میں ایک اہم سیاسی مسئلہ بن گیا۔بعض ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والی بہت سی خواتین تارکین وطن کے لیے امریکہ میں صحت کے نظام تک رسائی آسان نہیں اور سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

اس سلسلے میں نیو یارک سٹی الائنس اگینسٹ سیکشوئل ازالٹ نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والی شلپی چیٹر ج نے کہاکہ اس فیصلے سے ہماری کمیونٹی کی بالغ خصوصاً ان خواتین کونقصان پہنچے گا جو گھریلو تشدد کیواقعات کی وجہ سے ابارشن کا فیصلہ کر لیتی ہیں یا پھر شادی سے نا خوش ہوتی ہیں۔ ان کے بقول ابارشن تو ہوتے رہیں گے مگر اب غیر محفوظ طبی طریقوں سے جس سے عورت کی جان کومزید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button