سرورققومی خبریں

موہن بھاگوت کے دورۂ نیویارک سے قبل امریکی مذہبی آزادی کمیشن کا RSS رہنماؤں پر پابندیوں کا مطالبہ

USCIRF کا RSS پر پابندی اور رہنماؤں سے ملاقات نہ کرنے کا مطالبہ،بھارت نے USCIRF کی رپورٹ مسترد کردی

 نئی دہلی، 20 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کے عہدیداروں نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے ان ارکان کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جائے جو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار پائے جائیں۔ کمیشن نے امریکی حکومت کو RSS رہنماؤں کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور سفارتی مراعات سے گریز کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

USCIRF کی جانب سے یہ بیان RSS سربراہ موہن بھاگوت کے 29 اگست کو نیویارک کے مجوزہ دورے سے قبل سامنے آیا ہے۔ بھاگوت نیویارک میں American Hindus for Engagement and Dialogue (AHEAD) کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ’Universal Oneness Celebrations‘ میں شرکت کریں گے۔

USCIRF کمشنر جین ملز (Gene Mills) نے کہا کہ RSS رہنماؤں کو اعلیٰ سطحی رسائی یا سفارتی اعزاز نہیں دیا جانا چاہیے، حتیٰ کہ ایسی صورت میں بھی جب ان کا تعلق بھارتی حکومت سے ہو۔ ان کے مطابق امریکی حکومت کو ان RSS ارکان کے خلاف پابندیوں پر توجہ دینی چاہیے جنہیں مذہب یا عقیدے کی آزادی کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہو۔

USCIRF کے چیئرمین آصف محمود نے بھی RSS اور بھارتی سیاست کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے RSS سے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تنظیم سے منسلک بعض گروہ مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں، کے خلاف حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

USCIRF نے یہ دونوں بیانات بدھ کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیے۔

موہن بھاگوت کے دورے پر بھی اعتراض

امریکہ میں سرگرم وکالتی تنظیم Hindus for Human Rights نے بھی موہن بھاگوت کے مجوزہ دورۂ امریکہ پر تنقید کی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ بھاگوت کے دورے کو RSS کے وسیع نیٹ ورک سے منسلک مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد کے الزامات سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔

تنظیم نے ’Universal Oneness‘ تقریب کے حوالے سے مؤقف اختیار کیا کہ اتحاد اور یکجہتی کی تقریب RSS سے متعلق مذہبی بالادستی کے سیاسی مباحث کو ختم نہیں کر سکتی۔

USCIRF کی سالانہ رپورٹ میں بھی RSS کا ذکر

USCIRF کے تازہ بیانات مارچ میں جاری ہونے والی اس کی سالانہ رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں کمیشن نے بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی تھی۔

رپورٹ میں امریکہ سے بعض افراد اور اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پر غور کرنے کی سفارش کی گئی تھی، جن میں RSS اور Research and Analysis Wing (R&AW) بھی شامل تھے۔

کمیشن نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے متعدد الزامات عائد کرتے ہوئے مذہبی آزادی کی صورتحال پر مزید توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

بھارتی حکومت نے USCIRF کی رپورٹ اور اس میں کیے گئے دعووں کو مسترد کردیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے رپورٹ کو بھارت کی صورتحال کی ’’مسخ شدہ اور یک طرفہ‘‘ تصویر قرار دیا تھا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے مارچ میں کہا تھا کہ USCIRF بھارت کے بارے میں قابلِ سوال ذرائع اور مخصوص نظریاتی سوچ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کمیشن سے کہا تھا کہ وہ صرف بھارت پر تنقید کرنے کے بجائے امریکہ میں ہندو مندروں پر حملوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر بھی توجہ دے۔

جیسوال نے امریکہ میں بھارتی نژاد افراد کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے، عدم برداشت اور دھمکیوں کے واقعات کا بھی حوالہ دیا تھا۔

امریکہ اور بھارت میں اختلاف برقرار

USCIRF کے تازہ بیان سے مذہبی آزادی کے معاملے پر امریکہ اور بھارت کے درمیان اختلاف ایک بار پھر سامنے آگیا ہے۔

موہن بھاگوت کے نیویارک دورے سے قبل USCIRF نے RSS رہنماؤں کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بھارتی حکومت پہلے ہی کمیشن کی رپورٹ اور اس کے الزامات کو مسترد کر چکی ہے۔ اس طرح RSS اور مذہبی آزادی کا معاملہ ایک بار پھر دونوں ملکوں کے درمیان بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button