بین ریاستی خبریں

یونیفارم سول کوڈ: اتراکھنڈ میں لیو اِن جوڑوں کو پہلی ڈیجیٹل مردم شماری میں خاندان کا درجہ

"اتراکھنڈ میں لیو اِن جوڑوں کو مردم شماری میں خاندان کے طور پر تسلیم

دہرادون 09 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتراکھنڈ حکومت نے مردم شماری کے عمل میں لیو اِن ریلیشن شپ میں رہنے والے جوڑوں کو خاندان کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ریاست کے یونیفارم سول کوڈ کے تحت کیا جا رہا ہے، جو روایتی خاندانی درجہ بندی سے ہٹ کر جدید سماجی ڈھانچے کو تسلیم کرتا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق تقریباً 76 لیو اِن جوڑے اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حیثیت کو باضابطہ طور پر رجسٹر کروا سکتے ہیں۔ مردم شماری کے دوران انہیں شادی شدہ خاندانوں کے برابر درجہ دیا جائے گا، جس سے ان کی سماجی اور انتظامی شناخت مضبوط ہوگی۔

یہ مردم شماری بھارت کی پہلی مکمل ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی، جس کا آغاز گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) گرمیت سنگھ کی خود شماری سے ہوگا۔ اس کے لیے ایک محفوظ ویب پورٹل تیار کیا گیا ہے جو 16 علاقائی زبانوں میں دستیاب ہوگا، تاکہ شہری خود اپنی معلومات درج کر سکیں اور عملے پر بوجھ کم ہو۔

ڈائریکٹوریٹ آف سینس آپریشنز اتراکھنڈ کے ڈائریکٹر ایشیش سریواستو کے مطابق پہلی بار عوام کو خود مردم شماری کا اختیار دیا گیا ہے، جس سے اس عمل کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔ حکومت نے فروری سے اس کے لیے تیاری شروع کر دی تھی اور تقریباً 30 ہزار اہلکاروں کو تربیت دی جا رہی ہے، جس کے لیے 650 تربیتی بیچز منعقد کیے جا رہے ہیں۔

مردم شماری کا پہلا مرحلہ، جس میں گھروں کی فہرست سازی اور رہائشی تفصیلات شامل ہوں گی، 25 اپریل سے شروع ہوگا۔ اس مرحلے میں لیو اِن جوڑوں کے گھروں کو بھی باضابطہ طور پر درج کیا جائے گا۔

لیو اِن جوڑوں کو خاندان کے طور پر تسلیم کرنا ایک اہم اور ترقی پسند قدم مانا جا رہا ہے۔ اس سے ایسے رشتوں کو وقار اور سرکاری شناخت ملے گی جنہیں پہلے نظر انداز کیا جاتا تھا۔ اس اقدام کے ذریعے حکومت کا مقصد یہ ہے کہ پالیسی سازی اور فلاحی اسکیمیں معاشرے کی بدلتی ہوئی حقیقتوں کے مطابق ہوں۔

ڈیجیٹل مردم شماری کا پورٹل محفوظ، آسان اور عوام دوست بنایا گیا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں حصہ لے سکیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ خود شماری سے نہ صرف درست اعداد و شمار حاصل ہوں گے بلکہ شہریوں کو بھی اس عمل میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button