
نلگنڈہ میں MLM اسکیم کے نام پر بڑا دھوکہ، ‘WAVE’ نیٹ ورک بے نقاب
کم وقت میں زیادہ منافع کا لالچ،کروڑوں کے گھپلے میں ڈائریکٹر گرفتار
نلگنڈہ 14 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)نلگنڈہ میں ملٹی لیول مارکیٹنگ (MLM) کے نام پر کروڑوں روپے کے مبینہ فراڈ کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک گروہ عوام کو دھوکہ دینے میں مصروف تھا۔ اطلاعات کے مطابق، اس تنظیم کے ڈائریکٹروں نے اپنی حکمت عملی بدلتے ہوئے ‘WAVE’ کے نام سے نئی سرگرمیاں شروع کیں۔
ذرائع کے مطابق، نلگنڈہ شہر میں خفیہ طور پر ایک اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں پِیرامڈ اسکیم کے طرز پر کم وقت میں زیادہ منافع کا لالچ دے کر لوگوں کو راغب کرنے کی کوشش کی گئی۔
پولیس کو خفیہ اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اس اجلاس پر چھاپہ مارا گیا اور موقع پر موجود افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کارروائی میں تنظیم سے وابستہ دس ڈائریکٹروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ضلع کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جی رمیش نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس فراڈ کی جڑیں 2016 میں پڑیں، جب مہاراشٹر کے شہر پونے سے تعلق رکھنے والے ونود تُکارام کھوٹے نے VIPS Virtual Intelligence Payment System کے نام سے ایک والٹ ایپ شروع کیا۔ بعد ازاں 2018 میں اسے VIPS گروپ آف کمپنیز میں تبدیل کر دیا گیا اور مختلف خدمات کے نام پر زیادہ منافع اور کیش بیک کے وعدوں کے ساتھ آن لائن بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی۔
کمپنی نے اپنے ایجنٹوں، ایگزیکٹو، سینئر ایگزیکٹو، نائب صدور، صدور اور ڈیولپمنٹ ڈائریکٹروں کے ذریعے ملک بھر سے سینکڑوں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری جمع کی، لیکن سرمایہ کاروں کو نہ اصل رقم واپس کی گئی اور نہ ہی وعدہ کیا گیا منافع۔ مرکزی ملزم ونود کھوٹے بعد میں دبئی فرار ہو گیا۔
فراڈ کے مختلف طریقے
ابتدا میں “پرائم ممبرشپ” کے نام پر 1995 روپے وصول کیے گئے اور روزانہ منافع و شاپنگ پوائنٹس کا لالچ دیا گیا، مگر وعدے پورے نہیں کیے گئے۔
اسی طرح ریفرل کمیشن کے نام پر چین سسٹم کے ذریعے نئے ممبران شامل کرنے پر کمیشن دینے کا جھانسہ دیا گیا، لیکن اس میں بھی سرمایہ کاروں کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
VIPS ٹریڈنگ کے نام پر 10 ہزار روپے یا اس سے زیادہ جمع کروا کر ماہانہ 3 سے 5 فیصد منافع دینے کا وعدہ کیا گیا، جبکہ VIPS پراپرٹیز کے تحت زمین خریدنے پر 100 ماہ میں 100 فیصد کیش بیک دینے کا دعویٰ بھی کیا گیا، جو سراسر دھوکہ ثابت ہوا۔مرچنٹ اور QR سسٹم کے ذریعے بھی دکانداروں اور صارفین کو کیش بیک کے نام پر گمراہ کیا گیا۔
پولیس کے مطابق، اس گروہ نے پِیرامڈ اسکیم کے تحت نئے ممبران کی شمولیت پر منافع کا لالچ دے کر بڑے پیمانے پر رقم اکٹھی کی۔ صرف نلگنڈہ اور تلنگانہ کے علاقوں میں ہی تقریباً 350 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم جمع کی گئی۔ متاثرین کو بیرون ملک دوروں، کاروں، بائیکس اور ولاز کے وعدے کیے گئے اور ایک سال میں کروڑ پتی بنانے کے خواب دکھائے گئے۔جب متاثرین نے اپنی رقم واپس مانگی تو انہیں کہا گیا کہ اگر وہ ایک لاکھ روپے مزید سرمایہ کاری کریں تو پرانی رقم چار لاکھ کے ساتھ واپس کی جائے گی۔ ابتدا میں دو ماہ تک منافع دے کر اعتماد حاصل کیا گیا اور پھر دوبارہ دھوکہ دیا گیا۔
حال ہی میں نلگنڈہ شہر کے لکشمی گارڈنز میں ایک خفیہ میٹنگ منعقد کر کے “WAVE” نامی نئی کمپنی کے تحت پرانے صارفین کو دوبارہ سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا اور ان کے قبضے سے 10 موبائل فون ضبط کیے۔
پولیس نے اس معاملہ میں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات، پرائز چِٹس اینڈ منی سرکولیشن اسکیمز ایکٹ اور ڈپازٹرز کے مفادات کے تحفظ کے قانون 1999 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
ایڈیشنل ایس پی رمیش نے عوام کو خبردار کیا کہ آسانی سے پیسہ کمانے کے جھانسے میں نہ آئیں۔ سوشل میڈیا، موبائل ایپس اور ویب سائٹس کے ذریعے ہونے والے ایسے فراڈز میں پہلے چھوٹا منافع دکھا کر اعتماد حاصل کیا جاتا ہے اور بعد میں بڑی رقم ہتھیائی جاتی ہے۔
پولیس حکام نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم وقت میں زیادہ منافع کے دعوے کرنے والی اسکیمیں عموماً دھوکہ دہی پر مبنی ہوتی ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ نامعلوم کمپنیوں کی پیشکشوں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔



