بین الاقوامی خبریں

ہم ایران اور عالمی طاقتوں میں جوہری معاہدہ روکنے میں کامیاب ہو گئے: اسرائیل

مقبوضہ بیت المقدس، 21 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب معاہدے کی واپسی کو روکنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ صحافیوں کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ایک ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے مستقل طور پر روک سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کو یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے سے روکنا ہے۔

یہ بیانات بین الاقوامی جوہری ایجنسی کے ڈائریکٹر رافیل گروسی کے اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ہونے والے مذاکرات اختتام کو پہنچ چکے ہیں۔جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکا معاہدے کو بحال کرنے کے حوالے سے ایران کی جانب سے تعمیری جواب کا انتظار کر رہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران کے جوہری بم حاصل کرنے سے پہلے معاہدے پر واپس جانے کی سخت ضرورت ہے۔جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو اس نے اپنی ناکامی کی ذمہ داری واشنگٹن پر ڈالتے ہوئے گیند دوبارہ امریکی کورٹ میں ڈال دی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نیکل سوموار کے روز ایک ٹیلی ویڑن پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کا ملک عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک اچھے معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔تاہم رائٹرز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ہونے والی کوششوں کی ناکامی کا ذمہ دار امریکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر واشنگٹن اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تواس کے دعوے کے مطابق ایک اچھے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران ویانا واپسی کے لیے تیار ہے۔قابل ذکر ہے کہ ویانا مذاکرات جو اپریل 2021 میں ایٹمی معاہدے کی بحالی کے لیے شروع کیے گئے تھے متعدد معاملات کے حل میں ناکامی کے باعث گذشتہ مارچ سے تعطل کا شکار ہیں۔


اسرائیلی وزیراعظم کا پارلیمنٹ کی تحلیل اور نئے انتخابات کرانے کا فیصلہ

مقبوضہ بیت المقدس، 21 جون اسرائیل کی حکومت نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے اور نئے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے اندر ملک میں یہ پانچویں عام انتخابات ہوں گے۔ انتخابات اس سال کے آخر میں متوقع ہیں اور ان کے نتیجے میں ملک میں ایک بار پھر سابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں قومی مذہبی حکومت تشکیل پا سکتی ہے یا پھر ایک اور طویل سیاسی تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے دفتر نے پیر کے روز ٹیلی ویژن قوم سے خطاب میں کہا کہ حکومت ختم کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا، تاہم انہوں نے اس فیصلے کو اسرائیل کے لیے درست قرار دیا۔بینیٹ کو ایک سال قبل اقتدار سنبھالنے کے بعد سے آٹھ جماعتوں کے کمزوراتحاد کومتحد رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور بعض اتحادیوں کے انحراف کے سبب یہ اتحاد دو ماہ سے زیادہ عرصے سے پارلیمان میں اکثریت کھو بیٹھا ہے۔

نفتالی بینیٹ اور ان کے اہم اتحادی اور وزیر خارجہ یائر لاپڈ ایک عبوری حکومت تشکیل دیں گے اور اس کا اعلان مل کر کریں گے۔ یائر لبید عبوری حکومت کے سربراہ ہوں گے۔اکتوبر یا نومبر میں متوقع انتخابات تین برسوں میں اسرائیل کے پانچویں انتخابات ہوں گے۔ یہ انتخابات طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے بنجمن نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، جواِس وقت اپوزیشن لیڈر ہیں۔

اسرائیل نے 2019 اور 2021 کے درمیان چار غیر نتیجہ خیز انتخابات کرائے جو بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کے سبب نیتن یاہو کی حکمرانی کی اہلیت کے بارے میں بڑے پیمانے پر ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے تھے۔ نیتن یاہو تردید کرتے ہیں کہ انہوں نے کوئی غلط کام کیا۔رائے عامہ کے جائزوں میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ نیتن یاہو کی سخت گیر جماعت ’لیکود‘ایک بار پھر سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرے گی۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ نئی حکومت بنانے کے لیے قانون سازوں کی مطلوبہ حمایت حاصل کر پائیں گے یا نہیں؟ ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button