بین الاقوامی خبریں

ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ شاری ایسا قدم اُٹھا سکتی ہے

کوئٹہ ،30اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بلوچستان کے ضلع کیچ کے شہری علاقے تربت میں کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ کرنے والی شاری بلوچ کے والد کے ہاں تعزیت کے لیے عزیز رشتہ دار آ رہے ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ شاری بلوچ ایسا قدم اٹھا سکتی ہے۔ان کے ایک قریبی رشتہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ شاری بلوچ ایک تعلیم یافتہ اور سلجھی ہوئی خاتون تھیں۔’

ان کے بقول وہ بطور استاد سرکاری ملازمت بھی کر رہی تھیں، تاہم خاندان کے کسی بھی فرد کو شائبہ تک نہیں تھا کہ وہ عسکریت پسندی کی طرف مائل ہو چکی ہیں۔تربت کے ایک مقامی صحافی اسد بلوچ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گو کہ شاری بلوچ کے والد یہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ شادی کے بعد سے ان کا شاری بلوچ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے مگر پھر بھی لوگ ان کے گھر تعزیت کے لیے آ رہے ہیں۔اسد بلوچ کے بقول شاری بلوچ کی لاش کل تک ان کے آبائی علاقے پہنچائے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ کراچی یونیورسٹی بم دھماکے میں ملوث خاتون شاری بلوچ ، بلوچستان یونیورسٹی میں ایم فل کی طالبہ تھیں اورتربت کے ایک اسکول میں پڑھاتی بھی رہی ہیں۔

ان کے دو بچے ہیں اور قریبی رشتے دار اہم سرکاری عہدوں پر فائز ہیں یا رہ چکے ہیں۔ان کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے تھے کہ وہ علیحدگی پسند تحریک میں اس حد تک آگے بڑھ چکی ہیں کہ خود کش حملہ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گی۔

تربت میں مقیم شاری بلوچ کے چچا اور انسانی حقوق کے کارکن غنی پرواز نے بتایا کہ حکام نے اب تک شاری بلوچ کی لاش خاندان کے حوالے نہیں کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خاندان کے افراد اب بھی سکتے میں ہیں اور وہ شاری کی جانب سے ایسے کسی فعل کی توقع بھی نہیں کررہے تھے۔

لیکن انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ وہ بلوچ قوم پرستوں سے کسی حد تک متاثر ضرور تھیں لیکن انہوں نے کبھی کھل کر اس کا اظہار نہیں کیا تھا۔شاری بلوچ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کی چھ بہنیں تھیں اور انہوں نے حال ہی میں علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ایم ایڈ کی ڈگری مکمل کی تھی۔

تحقیقاتی اداروں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات گلستان جوہر میں واقع ایک فلیٹ پر چھاپہ مار کر تلاشی لی اور بعد میں اسے کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ پولیس سندھ نے سیل کر دیا۔بتایا جاتا ہے کہ یہ فلیٹ شاری بلوچ نے کرائے پر لے رکھا تھا اور وہ اور ان کا شوہر اکثر اس فلیٹ میں آتے جاتے رہتے تھے لیکن انہوں نے یہاں مستقل رہائش نہیں رکھی تھی۔

ان کا پڑوسیوں کے ساتھ بھی بہت کم ملنا جْلنا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گھر تین سے چار سال قبل کرائے پر لیا گیا تھا۔اطلاعات کے مطابق کراچی میں ہی کے ڈی اے اسکیم میں واقع ایک گھر بھی سیل کر دیا گیا ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ شاری بلوچ کے والد کی ملکیت ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گھر سے کچھ اشیا بھی قبضے میں لی گئی ہیں جب کہ اسی گھر میں چند ہفتے قبل خاتون بمبار کی بہن کی شادی بھی ہوئی تھی۔ادھر سندھ فرانزک ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری نے جامعہ کراچی میں خودکْش بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل کر لیا ہے۔بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے ترجمان کے مطابق لیبارٹری کوسانحہ والے دن کی شب پولیس کی جانب سے چار لاشوں کے نمونے موصول ہوئے تھے۔

ان میں سے تین چینی اساتذہ اور ایک پاکستانی ڈرائیور کے نمونے شامل تھے۔ترجمان کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونیو الے چینی اساتذہ کے رشتہ داروں کے نمونے دستیاب نہیں تھے اس لیے ان افراد کے زیرِِ استعمال سامان سے نمونے حاصل کیے گیے تاکہ نتائج کی تیاری بروقت کی جاسکے۔ جب کہ پاکستانی ڈرائیور خالد کے رشتہ داروں سے ریفرنس نمونہ حاصل کیا گیاتھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button