بین الاقوامی خبریں

 بائیڈن اور اشرف غنی کے درمیان آخری فون کال میں کیا بات ہوئی؟

لندن، یکم ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے دعویٰ کے مطابق طالبان کے ملک کا کنٹرول سنبھالنے سے پہلے امریکی صدر جو بائیڈن U.S. President Joe Biden اور ان کے افغان ہم منصب اشرف غنی Ashraf Ghani  کے درمیان آخری کال میں دونوں رہنماؤں نے فوجی امداد، سیاسی حکمت عملی اور پیغام رسانی کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو ملنے والی ایک ٹیلی فونک گفتگو کی نقل سے واضح ہوتا ہے کہ نہ تو جو بائیڈن اور نہ ہی اشرف غنی فوری طور پر کسی خطرے سے آگاہ یا اس کے لیے تیار نظر آئے۔
جو بائیڈن اور اشرف غنی نے 23 جولائی کو تقریباً 14 منٹ بات کی جبکہ 15 اگست کو اشرف غنی صدارتی محل چھوڑ کر نکل گئے جس کے بعد طالبان کابل میں داخل ہو گئے تھے۔ طالبان کے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے ہزاروں مایوس افغان شہری ملک چھوڑ چکے ہیں۔ امریکی انخلا کے دوران 13 امریکی فوجی اور متعدد افغان شہری کابل کے ایئرپورٹ پر ایک خودکش بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔
فون کال میں جو بائیڈن نے اس صورت میں امداد کی پیشکش کی کہ اگر اشرف غنی عوامی سطح پر یہ کہیں کہ ان کے پاس افغانستان میں بگڑتی ہوئی صورتحال کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ ہے۔خیال رہے کہ اس فون کال سے کچھ دن قبل امریکہ نے افغان سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے فضائی حملے کیے تھے جس پر طالبان نے کہا تھا کہ یہ اقدام دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
جو بائیڈن نے اشرف غنی کو مشورہ دیا کہ وہ پیش قدمی کرنے والی فوجی حکمت عملی کے لیے طاقتور افغانوں کو مجتمع کرنے کی کوشش کریں اور پھر اس کا انچارج ایک ’جنگجو‘ بنائیں۔ ان کا اشارہ وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی کی جانب تھا۔جو بائیڈن نے افغان مسلح افواج کی تعریف کی جنہیں امریکی حکومت نے تربیت اور مالی اعانت دی۔ انہوں نے افغان صدر سے کہا کہ آپ کے پاس بہترین فوج ہے۔
آپ کے پاس ستر اسی ہزار کے مقابلے کے لیے تین لاکھ افراد پر مشتمل اچھی مسلح فوج ہے اور وہ بہتر انداز میں لڑنے کے قابل ہیں۔لیکن اس کے چند ہی دن بعد افغان فوج نے ملک کے صوبائی دارالحکومتوں میں طالبان کے خلاف انتہائی محدود مزاحمت کے بعد اپنا بوریا بستر لپیٹنا شروع کر دیا تھا۔
جو بائیڈن نے فون کال کے دوران زیادہ تر اس نکتے پر توجہ مرکوز رکھی جسے انہوں نے ’افغان حکومت کی پرسیپشن پرابلم‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آپ کو دنیا بھر اور افغانستان کے کچھ حصوں میں موجود اس تاثر سے آگاہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ کے حوالے سے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔
بائیڈن نے مزید کہا کہ ’چاہے یہ تاثر حقیقت ہو یا نہیں، اس وقت دنیا کے سامنے ایک مختلف تصویر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔جو بائیڈن نے اشرف غنی سے کہا کہ اگر افغانستان کی ممتاز سیاسی شخصیات ایک نئی عسکری حکمت عملی کی حمایت کرتے ہوئے ایک ساتھ پریس کانفرنس کریں گے تو اس سے یہ تاثر بدل جائے گا اور میرے خیال میں اس سے بہت زیادہ تبدیلی آئے گی۔
روئٹرز کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے دوران امریکی صدر کے الفاظ سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر بغاوت اور اس ٹیلی فونک گفتگو کے 23 دن بعد افغان حکومت کے انہدام کی توقع نہیں کر رہے تھے ۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button