ریاض،30اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں پہلے ہی دوریاں پائی جاتی تھیں لیکن 2018 میں جب استنبول میں سعودی صحافی جمال خشوگی کا قتل ہوا تویہ تناؤ اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا تاہم اب کم و بیش ساڑھے تین سال بعد ان دونوں ممالک کے درمیان حائل خلیج ختم ہو رہی ہے۔
صدر طیب ایردوان نے پانچ برس بعد سعودی عرب کا دورہ کیا ہے۔ وہ محمد بن سلمان سے معانقہ اور سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ روایتی قہوہ پیتے ہوئے خوش گوار ماحول میں گفتگو کرتے نظر آئے ہیں۔اس عرصے میں ایسی کیا تبدیلیاں آئیں جو ان دو بڑے مسلم ممالک کو دوبارہ قریب لا رہی ہیں؟
یہاں انہی اسباب کا جائزہ لیا جارہا ہے۔صدر ایردوان کی سفارتی حکمت عملی میں ایک ایسے وقت تبدیلی آرہی ہے جب ترکی گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنے سخت ترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ ان حالات میں خلیج کی دولت مند عرب ریاستوں سے سرمایہ کاری حاصل کی جاسکتی ہے۔
اس کے علاوہ ترکی نے مصر اور اسرائیل سے بھی تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں کی ہیں۔متحدہ عرب امارات سے تعلقات بحال ہونے کے بعد ابو ظہبی نے ترکی کے لیے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا اور معاشی بحالی کے لیے دیگر اقدامات کا عندیہ بھی دیا تھا۔ترکی میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق افراطِ زر 61 فی صد ہوچکا ہے جب کہ گزشتہ برس ڈالر کے مقابلے میں ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں 44 فی صد کمی آچکی ہے۔
اس معاشی صورتِ حال کی وجہ سے ایردوان کے لیے مشکلات پیدا ہورہی ہیں اور اقتدار پر ان کی گرفت بھی کمزور ہورہی ہے جب کہ ترکی میں آئندہ سال انتخابات ہونے والے ہیں۔جمال خشوگی کے قتل سے قبل ترکی میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری دو ارب ڈالر جب کہ سعودی عرب میں ترکی کی سرمایہ کاری 66 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
ترکی کی وزارتِ خارجہ کے مطابق سعودی عرب میں 200 سے زائد ترک کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔جمال خشوگی امریکی اخبار ’واشنگٹن‘ پوسٹ کے لیے کالم لکھتے تھے۔وہ محمد بن سلمان کی سعودی عرب میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کے حامی تھے لیکن ولی عہد کے اپنے ناقدین کے خلاف اقدامات پر تحفظات کا اظہار بھی کرتے رہے تھے۔موجودہ حالات کے تناظر میں ترکی کے لیے اپنے معاشی بحران سے نمٹنے میں سعودی عرب سے تعلقات کی بہتری انتہائی اہمیت اختیار کرچکی تھی۔
دوسری جانب سعودی عرب کے لیے رواں سال معاشی طور پر سازگار ثابت ہورہا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بڑا اضافہ متوقع ہے۔توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سعودی عرب کی آمدن 400 ارب ڈالر سے زائد ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
دوسرے لفظوں میں سعودی عرب کے پاس اس وقت ترکی میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے بے پناہ سرمایہ ہے۔ترکی سے قربت سعودی عرب کے لیے اس لیے اہمیت رکھتی ہے کہ موجودہ حالات میں جب امریکہ سے اس کے تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی ہے اسے نئے اتحادیوں کی ضرورت ہے۔
صدر بائیڈن کے برسرِ آنے کے بعد سعودی ولی عہد کے ساتھ ان کا کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہوا ہے۔ صدر بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی کے قانون ساز بھی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں سخت رویہ اختیار کرنے کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ان قانون سازوں کے نزدیک سعودی عرب امریکہ کا اچھا اسٹریٹجک ساتھی ثابت نہیں ہوا ہے کیوں کہ وہ یوکرین جنگ کے بعد اوپیک معاہدے کے تحت روس کے ساتھ کھڑا رہا جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کی دشواریوں میں اضافہ ہوا۔
ماہرین کے مطابق ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کے لیے یہ موزوں ترین وقت تھا۔سعودی عرب اخوان المسلمین کی مدد کا الزام عائد کرکے قطر پر ایک برس تک عائد رہنے والی پابندیاں ختم کرچکا ہے۔ قطر اور سعودی عرب کے تعلقات تو بحال ہوچکے تھے لیکن قطر کے قریبی ترین اتحادی ترکی کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکے تھے جس کا آغاز اب ہوچکا ہے۔
ترکی کی جانب سے ولی عہد محمد بن سلمان سے مفاہمت کے لیے سب سے اہم پیش رفت یہ ہوسکتی تھی کہ خشوگی کے قتل کیس سے ان کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا تھا اس کا ازالہ کیا جاتا۔ کیوں کہ اس واقعے میں ولی عہد ملوث ہونے کے الزامات کی وجہ سے کئی عالمی رہنماؤں اور بڑے کاروباری اداروں نے ان سے فاصلہ اختیار کرلیا تھا۔



