
کابل ، 11جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ طالبان افغان تنازع کو شریعت کے بجائے امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق حل کرنا چاہتے ہیں۔ افغان حکومت کے علاوہ کوئی بھی طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کر سکتا۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ہفتے کی صبح شمال مشرقی صوبے خوست میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کا افتتاح کیا ہے۔
نئے ایئر پورٹ کا افتتاح ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب ملک کے شمال میں طالبان تیزی سے مختلف علاقوں پر قابض ہو رہے ہیں۔افغانستان کے صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اشرف غنی نے افتتاح کے بعد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے خوست پہنچنے والی پرواز کے ذریعے آنے والے مسافروں کو خوش آمدید بھی کہا۔افغان صدر نے صوبے میں سکیورٹی کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے علاوہ دورے کے دوران مقامی رہنماؤں سے ملاقات بھی کی ہے۔
صدر اشرف غنی نے نائب صدر امراللہ صالح کے ساتھ مقامی عمائدین کے اجتماع سے خطاب بھی کیا۔ خطاب میں انہوں نے افغانستان میں جمہوری حکومت کے تسلسل کی یقین دہانی بھی کی۔افغان صدر نے خطاب کے دوران سوال کیا کہ بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کس کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں؟
انہوں نے طالبان کے سامنے یہ سوال بھی رکھا ہے کہ کیا وہ افغانستان کے لیے لڑ رہے ہیں یا وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان دوسروں کے کنٹرول میں چلا جائے؟اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ اگر طالبان افغانستان سے محبت کرتے ہیں تو وہ وعدہ کریں کہ انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو قبول نہیں کیا۔ وہ وعدہ کریں کہ وہ افغانستان کے پانی کو فروخت نہیں ہونے دیں گے۔
افغان صدر نے طالبان سے یہ وعدہ بھی چاہا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے کام کرنے کو قبول نہیں کریں گے۔طالبان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کسی کو کوئی شک نہیں ہے کہ وہ کہاں سے آتے ہیں اور کہاں وہ رہتے ہیں۔افغان صدر کے بقول طالبان نے صوبہ قندھار میں قائم ارگنداب وادی میں تین پل تباہ کر دیے ہیں جن کی تعمیر میں پر پانچ کروڑ ڈالر لاگت آ ئی تھی۔ اگر وہ مستقبل کا تعین کرنا چاہتے ہیں تو آج ہی کیوں نہ کیا جائے؟
ان کا کہنا تھا کہ سب کو عراق، شام اور لبنان سے سیکھنا چاہیے۔اشرف غنی نے طالبان سے کہا کہ وہ بیٹھیں اور اسلامی شریعت کے مطابق تنازع کا حل نکالیں۔خوست میں خطاب میں افغان صدر کا کہنا تھا کہ اگر طالبان جنگ کا چناؤ کرتے ہیں تو وہ خود جنگ کے ذمہ دار ہوں گے۔ افغانوں نے میدان جنگ میں جنگ نہیں ہاری ہے۔ طالبان بس افواہیں پھیلا رہے ہیں۔
انہوں نے افغان خواتین کو یقین دہانی کرائی کہ حالات ایک بار پھر سے خرابی کی طرف نہیں جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنہوں نے حکومت کو اندرونی طور پر نقصان پہنچایا انہیں مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔واضح رہے کہ خوست ایئر پورٹ افغان نیشنل ایوی ایشن اتھارٹی کے بجٹ سے تعمیر کیا گیا ہے اور افتتاح کے بعد خوست سے متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں شروع ہو گئی ہیں۔
افغانستان میں #امریکہ اور بین الاقوامی #افواج کے #انخلا کا عمل شروع ہونے کے بعد سیکیورٹی کی صورت حال کشیدہ ہے اور #طالبان نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ 85 فی صد #افغانستان ان کے کنٹرول میں ہے۔
روس کے دورے کے موقعے پر طالبان مذاکرات کار شہاب الدین دلاور نے دیگر #طالبان #رہنماؤں عبد اللطیف منصور اور سہیل #شاہین کے ہمراہ #پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کے 85 فی صد علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ جس میں #ملک کے 398 میں سے 250 #اضلاع شامل ہیں۔



